تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 285
وہ چیز جو مقصود بالذات ہے اس کے لئے تو وہ جتنی بھی غیرت دکھائے کم ہے۔حالانکہ اصحاب الفیل کو جو طاقت حاصل تھی وہ مکہ والوں کو نہیں تھی۔گویا مکہ والوں کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری تو کوئی حیثیت ہی نہیں تم تو اصحاب الفیل کے مقابلہ میں بھی ذلیل تھے۔جب تمہارے جیسے ذلیل انسانوں کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کے حملہ سے مکہ کو بچایا تو کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تمہارے حملہ سے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بچائے گا۔سورۃ الفیل کا سورۃ ہمزہ سے تیسرا تعلق تیسرا قریبی تعلق پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ مکہ کا بچانا بھی گو اصحاب الفیل کی تباہی کی ایک وجہ تھی۔مگر اصل وجہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت تھی اور یہ مقصد اور تمام مقاصد سے زیادہ مقدم اور اہم تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خانۂ کعبہ کو بچانا خود بھی ایک مقصود تھا مگر بعض دفعہ ایک سے زیادہ بھی مقصود ہو جاتے ہیں۔مثلاً بعض دفعہ حکومت باہر سے آنے والے وزراء کی دعوت کرتی ہے تو وہ وزیر اعظم کی بھی دعوت کرتی ہے، وزیر خارجہ کی بھی دعوت کرتی ہے، وزیر تعلیم کی بھی دعوت کرتی ہے، وزیر مال کی بھی دعوت کرتی ہے۔اسی طرح دوسرے وزراء کی بھی دعوت کرتی ہے مگر مقدم وزیر اعظم کی دعوت ہوتی ہے۔وزیر خارجہ یا وزیر مال یا وزیر تعلیم کی دعوت مقدم نہیں ہوتی۔اسی طرح مکہ کے بچانے میں جہاں تک خانۂ کعبہ کی حفاظت مدّ ِنظر تھی وہاں اس سے بڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام مدّ ِنظر تھا جو تھوڑے ہی دنوں تک پیدا ہونے والے تھے اور جس کی تفصیل آگے آئے گی۔اللہ تعالیٰ اس جگہ فرماتا ہے کہ تم کہتے ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح جیت جائیں گے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خاطر اصحاب الفیل کو تباہ کر دیا۔اب کیا تم سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے تو اس نے آپؐکے لئے ایسا عظیم الشان نشان دکھا دیا تھا۔مگر پیدا ہونے کے بعد وہ آپ کو چھوڑ دے گا جس انسان کی حیثیت اتنی عظیم الشان تھی کہ اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنے نشانات کو ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا تم سمجھ سکتے ہو کہ اس کے پیدا ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کو اس کا کتنا بڑا احترام ملحوظ ہو گا اور اس کی عظمت کے اظہار کے لئے وہ کیا کچھ نہ کرے گا۔پس تمہیں اپنا فکر کر لینا چاہیے ایسا نہ ہو کہ تم اس کی مخالفت میں اپنی عاقبت تباہ کر لو۔سورۃ الفیل کا سورۃ ہمزہ سے چوتھا تعلق چوتھا قریبی تعلق اس سورۃ اور پہلی سورۃ کا یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں دشمن کے مال و دولت کے مالک ہونے کا دعویٰ بیان کیا گیا تھا۔دشمن کا دعویٰ تھا کہ میں بڑا مالدار ہوں اور اس کی وجہ سے میں ہمیشہ ہمیش قائم رہوں گا۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کے واقعہ کو پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ اصحاب الفیل بھی بڑے دولتمند تھے اور ان کی دولت سے تمہاری دولت زیادہ نہیں مگر باوجود اس کے کہ وہ