تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 284

سامنے آیا تو شیخ سعدی نے خلعت لپیٹ کر شوربے میں ڈبو دیا۔لوگوں نے سمجھا کہ یہ کوئی پاگل ہے جو ایسی حرکت کررہا ہے۔صاحبِ خانہ نے بھی کہا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا جناب یہ میری دعوت نہیں اسی خلعت کی دعوت ہے اس لئے میں اسے کھلا رہا ہوں۔انہوں نے کہا ہم تو سمجھے نہیں آپ کا مطلب کیا ہے وہ کہنے لگے میں ہی کل اس دعوت میں آیا تھا مگر مجھے دھکے دیتے دیتے جوتیوں تک پہنچا دیا گیا۔مگر آج میں جوتیوں میں بیٹھا تو مجھے آگے لاتے لاتے مسند تک پہنچا دیا گیا۔آخر میں تو وہی ہوں جو کل بھی اس مجلس میں آیا تھا۔پھر مجھ سے جو سلوک میں فرق کیا گیا ہے وہ کیوں ہے۔اسی لئے کہ آج میں نے خلعت پہنا ہوا ہے۔مگر کل میں نے خلعت نہیں پہنا تھا۔پس درحقیقت یہ اسی لباس کی دعوت ہے میری دعوت نہیں۔شیخ سعدی مستغنی آدمی تھے انہیں خلعت کے خراب ہونے یا رہنے کی پروا ہی کیا تھی۔جب صاحب خانہ نے یہ بات سنی تو اس نے معذرت کی اور کہا کہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی ہمیں معاف کیا جائے۔یہ بظاہر ایک لطیفہ ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ سعدی کے مقابلہ میں خلعت کی کیا حقیقت تھی۔نادان سمجھتے ہوں گے کہ شاید خلعت کی وجہ سے سعدی کی عزت تھی مگر جو عقلمند تھے وہ جانتے تھے کہ اس خلعت کی عظمت اس میں ہے کہ سعدی نے اس کو پہنا ہے نہ یہ کہ سعدی کو اس خلعت کی وجہ سے عزت حاصل ہے۔اسی طرح خانۂ کعبہ کی اپنی ذات میں کوئی عزت نہیں تھی خانۂ کعبہ کو اگر عزت حاصل تھی تو اس لئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی بنیادی اٹھائیں تا موعود کل ادیان ظاہر ہو کر اس سے تعلق پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ نے اسے لوگوں کے لئے ایک مقامِ اتحاد اور اقوامِ عالم کے لئے مرجع بنا دیا۔اسی نقطۂ نگاہ کے ماتحت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم یہ تو دیکھو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ کیا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ شخص ہوں جس کے ظہور کے لئے خانۂ کعبہ کی بنیاد رکھتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعائیں کی تھیں۔تم کہتے ہو کہ یہ غریب ہے کمزور ہے، ناطاقت ہے اور ہم بڑے دولتمند ہیں یہ ہمارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔تمہیں سمجھنا چاہیے کہ خانۂ کعبہ کی قیمت زیادہ ہے یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیمت زیادہ ہے۔خانۂ کعبہ کی تو بنیاد ہی اسی لئے رکھی گئی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت جو دعا کی اس میں کھلے طور پر یہ الفاظ آتے ہیں کہ وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ(البقرہ:۱۳۰) پس خانہ کعبہ قائم ہی اسی لئے کیا گیا تھا کہ تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کرنے والا نبی اس جگہ پیدا ہو۔اگر علامت کے لئے خدا نے یہ نشان دکھایا تھا کہ اس نے ابرہہ اور اس کے لشکر کو تباہ و برباد کر دیا تو تم سمجھ لو کہ اس مقصود کے لئے وہ کتنا بڑا نشان ظاہر کرے گا۔جب ایک علامت کے لئے اس نے اصحاب الفیل کو تباہ کر دیا تو