تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 283

اور ان کا محرک ہوتی ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ شیخ سعدی ایک دفعہ سفر کرتے ہوئے کسی سرائے میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ ایک دن شہر کے رئیس نے دعوت کی اور اس نے اعلان کرا دیا کہ وہ مسافر جو سراؤں میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی میرے ہاں مدعو ہیں۔سرائے والے نے شیخ سعدی کو بتا دیا کہ آج آپ کو یہاں سے کھانا نہیں ملے گا۔کیونکہ فلاں رئیس نے دعوت کی ہے اور آپ کو بھی اس نے بلایا ہے۔شیخ سعدی گو آدمی بہت بڑے تھے مگر لباس نہایت سادہ رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود ان کو بادشاہوں کے دربار میں جانے کی عادت تھی اور چونکہ وہ بہت مشہور تھے جس جگہ بھی جاتے لوگ ان کی قدر کرتے اور انہیں عزت کے مقام پر بٹھاتے۔اسی عادت کے مطابق وہ اس رئیس کے ہاں گئے اور سیدھے صدر کی جگہ کے قریب بیٹھ گئے۔انہیں یہ خیال ہی نہ رہا کہ یہ نئی جگہ ہے اور یہاں لوگ مجھے نہیں جانتے۔اتنے میں کوئی بہت بڑا رئیس آگیا۔صاحب خانہ کے ملازم شیخ سعدی کے پاس آئے اور انہیں کہا کہ حضور جگہ چھوڑیئے فلاں صاحب تشریف لائے ہیں۔شیخ سعدی وہاں سے اٹھے اور دوسری جگہ بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر گذری تھی کہ ایک اور رئیس آگئے۔پھر ملازموں نے شیخ سعدی کو وہاں سے اٹھایا اور وہ ہٹ کر پَرے بیٹھ گئے۔وہاں بیٹھے تھے کہ ایک اور رئیس آگیا اور انہیں وہاں سے بھی اٹھنا پڑا۔اسی طرح ہوتے ہوتے وہ جوتیوں کی جگہ پر پہنچ گئے۔خیر انہوں نے کھانا کھا لیا اور چلے گئے۔چونکہ اس رئیس کی طرف سے تین دن کی دعوت کا اعلان تھا۔شیخ سعدی چونکہ بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں جاتے اور ان کی مجالس میں بیٹھا کرتے تھے اس لئے مختلف بادشاہوں کی طرف سے انہیں بڑے بڑے قیمتی خلعت ملے ہوئے تھے۔دوسرے دن دعوت پر جاتے ہوئے انہوں نے کسی بڑے بادشاہ کا دیا ہوا ایک نہایت قیمتی خلعت نکالا اور پہن لیا۔اس میں موتی اور جواہرات ٹنکے ہوئے تھے۔اور سونے کے کام سے بھرا ہوا تھا جب دعوت کی جگہ پر پہنچے تو بجائے مسند پر بیٹھنے کے جاتے ہی دروازے کے پاس جاکر بیٹھ گئے۔اتنے میں اسی رئیس کا ایک نوکر آیا اور اس نے کہا حضور آپ یہاں کیوں تشریف رکھتے ہیں اٹھیے اور اوپر چلیے۔وہ اٹھ کر اس سے اوپر کی جگہ بیٹھے۔ایک اور ملازم آگیا اور اس نے کہا۔حضور یہاں کہاں بیٹھے ہیں اوپر ہوکر بیٹھئے۔یہ کچھ اوپر ہو کر بیٹھ گئے۔وہاں بیٹھے تھے کہ ایک اور نوکر نے دیکھ کر کہا حضور یہ جگہ آپ کے لئے مناسب نہیں آپ مسند کے قریب تشریف لائیے۔آخر صاحب خانہ تشریف لائے اور انہوں نے شیخ سعدی کا جو لباس دیکھا تو سمجھا کہ کوئی وزیر یا بڑا امیر کسی مملکت کا آیا ہے اور ان سے آکر کہا کہ آپ مجھے کانٹوں میں کیوں گھسیٹتے ہیں آئیے اور مسند پر بیٹھئے چنانچہ اس نے شیخ سعدی کا اس قدر احترام کیا کہ خود بھی مسند پر نہ بیٹھا اور انہیں جگہ دے دی جب کھانا