تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 277

لوگ بظاہر دیکھتے تو کہتے عاص بن وائل کتنا بڑا آدمی ہے بڑے فخر سے اپنا تہ بند لٹکا ئے چلا جا رہا ہے یا ولید کتنا بڑا آدمی ہے یا فلاں کتنا بڑا آدمی ہے مگر ان بڑے آدمیوں کی یہ حالت ہوتی تھی کہ ان کے دلوں میں ہر وقت ایک آگ لگی ہوتی تھی کہ ہمارا بیٹا مسلمان ہو گیا۔ہمارا بھائی مسلمان ہو گیا۔ہمارا فلاں رشتہ دار مسلمان ہو گیا ہم اب کریں تو کیا کریں۔اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ۰۰۹ (پھر)وہ (آگ اور تیز کرنے کے لئے)ان پر (سب طرف سے) بند کر دی جائے گی۔فِيْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍؒ۰۰۱۰ درانحا لیکہ(وہ لوگ اس وقت) لمبے ستو نوں کے ساتھ بندھے ہوں گے۔حلّ لُغات۔مُؤْصَدَۃٌ: اَلْمُؤْصَدُ اَلْمُطْبَقُ وَالْمُغْلَقُ۔بند کی گئی (اقرب)۔عَـمَدٌ۔عَـمُوْدٌ کی جمع ہے اور عَـمُوْدٌ کے معنے ستون کے ہیں(اقرب)۔تفسیر۔اس آیت میں اس آگ کی شدت بیان کی گئی ہے جو کفار کے قلوب پر بھڑ کائی جانے والی تھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اس آگ کو معمولی مت سمجھو۔جس طرح بھٹی کی آگ سب آگوں سے زیا دہ شدید ہوتی ہے کیونکہ اسے ہر طرف سے بند کیا ہوا ہوتا ہے اسی طرح کفار کے قلوب پرجو آگ بھڑکائی جانے والی ہے وہ بھی نہایت شدید ہوگی۔اسے چاروں طرف سے بند کرکے رکھا جائے گا اور اس کی بھڑاس بھی باہر نہیں نکلے گی۔آگ کے کفار پر بند کئے جانے سے مراد اس’’بند آگ‘‘ کی مثال کفار مکہ کا وہ فیصلہ ہے جو انہوں نے جنگ بدر کے بعد کیا۔اس جنگ میں چونکہ مکہ والوں کے تمام چوٹی کے لیڈر ہلاک ہو چکے تھے اس لئے انہوں نے سمجھا کہ اگر آج ماتم کیا گیا تو ہماری تمام عزت خاک میں مل جائے گی۔چنانچہ انہوں نے فیصلہ کر دیا کہ کوئی شخص بدر میں ہلاک ہونے والوں پر روئے نہیں۔یہ حکم اپنی نوعیت کے لحاظ سے نہایت شدید تھا مگر اپنی قوم کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے مکہ کا ایک ایک فرد اپنے سینہ میںغم و الم کی ایک بے پناہ آگ دبا کر خاموش ہو گیا۔ان کی آنکھیں اپنے مرنے والوں کی یاد میںآنسو ئوں کی موسلا دھار بارش برسانا چاہتی تھیں ان کی زبانیں آہ و فغاں اور