تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 275
ابوجہل کو مارڈالا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں جب لڑائی ختم ہوگئی تومیں یہ دیکھنے کے لئے نکلا کہ ابوجہل کا کیا حال ہے۔میں نے دیکھا کہ وہ زخموں کی شدت کی وجہ سے کراہ رہا ہے۔میں نے اسے کہا سنائو کیا حال ہے؟ اس نے کہا مجھے اپنی موت کا غم نہیں کیونکہ سپاہی جنگ میں مرا ہی کرتے ہیں۔مجھے افسوس ہے تو یہ کہ مدینہ کے نوجوانوں نے مجھے مارا(مسلم کتاب الـجھاد و السیر باب استحقاق القاتل سلب القتیل )۔پھر اس نے عبداللہ بن مسعودؓ سے کہا کہ مجھے زخموں کی وجہ سے سخت تکلیف ہے۔تم صرف اتنا کرو کہ تلوار سے میری گردن کاٹ دو مگر دیکھنا ذرا لمبی کاٹنا۔کیونکہ جرنیلوں کی گردن ہمیشہ لمبی کاٹی جاتی ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں میں نے اسے کہا تیری اس آخری حسرت کو بھی پورا نہیں کروں گا۔چنانچہ میں نے ٹھوڑی کے قریب سے اس کی گردن کاٹی(سیرۃ الحلبیۃ الجزو الثانی غزوۃ الکبرٰی)۔اب دیکھو ابوجہل کے دل میں اس وقت کتنی جلن ہوگی۔کجا یہ کہ ابوجہل اس امید پر میدان میں آیا تھا کہ آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالوں گا اور کجا یہ کہ پندرہ پندرہ برس کے دو نوجوان لڑکوں نے اسے مار ڈالا اور مارا بھی ایسی حالت میں کہ اس کے سامنے پہرہ کے لئے دو زبردست جرنیل کھڑے تھے۔ایک ان میں سے اس کا اپنا لڑکا تھا اور ایک اور جرنیل تھا۔پھر اس نے زرہ بھی پہنی ہوئی تھی۔خَود بھی اس کے سر پر تھا۔مگر کوئی تدبیر کام نہ آئی اور وہ ہزاروں حسرتیں لئے ہوئے اس جہاں سے گذرگیا۔اس وقت اس کے دل میں جو آگ جل رہی ہوگی اور جس حسرت سے اس نے اپنی جان دی ہوگی اس کا کون اندازہ لگا سکتا ہے۔اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار نے جس شخص کو صلح کی گفتگو کے لئے اپنا لیڈر بناکر بھیجا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا بڑے دھڑلے سے باتیں کررہا اور ہاتھ پر ہاتھ مار کر اپنی فوقیت جتا رہا تھا کہ عین اسی وقت زنجیروںکی کھڑکھڑاہٹ کی آواز آنی شروع ہوئی۔لوگوں نے دیکھا تو اسی سردار کا لڑکا گرتا پڑتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آرہا تھا۔جب وہ قریب پہنچا تو اس نے کہا یارسول اللہ میں آپ پر ایمان لاچکا ہوں۔میرے باپ نے میرے پائوں میں بیڑیاں ڈال کر مجھے گھر میں قید کررکھا تاکہ میں بھاگ کر مدینہ نہ پہنچ جائوں۔آج یہ ادھر صلح کی گفتگو کے لئے آیا تو مجھے موقع مل گیا اور میں گرتے پڑتے یہاں پہنچ گیا(بخاری کتاب الشروط باب الشـروط فی الـجھاد والمصالـحۃ )۔اس وقت اپنے بیٹے کی گفتگو سن کر کفار کے سردار کی جو حالت ہوئی ہو گی وہ کیسی عبرت ناک ہو گی وہ کفار کی طرف سے صلح کی گفتگو کے لئے آیا ہوا تھا اور سینہ تان کر بڑے فخر سے باتیں کر رہا تھا کہ عین اسی مجلس میں اس کا بیٹاآتا ہے اور اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میںڈالتے ہوئے کہتا ہے یارسول اللہ میں آپ پر ایمان لاتا ہوں۔غرض اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے سامان پیدا کئے