تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 271

كَلَّا لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِٞۖ۰۰۵ ہرگز ایسا نہیں (جیسا اس کا خیال ہے بلکہ) وہ یقیناً (اپنے مال سمیت) حطمہ میں پھینکا جائے گا۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ۰۰۶ اور (اے مخاطب) تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ حطمہ کیا شے ہے۔نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ۰۰۷ یہ (حطمہ) اللہ تعالیٰ کی آگ ہے خوب بھڑکائی ہوئی الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِؕ۰۰۸ جو دلوں کے اندر تک جا پہنچے گی۔حلّ لُغات۔حُطَمَۃ۔حُطَمَۃ کے معنے عربی زبان میں توڑنے کے بھی ہوتے ہیں اور حُطَمَۃ کے معنے آگ کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے حَطَمَہٗ: کَسَـرَہُ۔الْـحُطَمَۃُ: اَلنَّارُ الشَّدِیْدَۃُ (منجد) پس حُطَمَہ کے معنے ہوئے توڑنے والی یا حُطَمَۃ کے معنے ہوئے ایسی آگ جو سخت بھڑکنے والی ہے۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں کفار کو ان کا انجام بتاتا ہے کہ اس وقت تو ان کی یہ حالت ہے کہ وہ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مسلمانوں کو مارتے اور دکھ دیتے ہیں۔اسی طرح مال کے گھمنڈ میں وہ اپنے آپ کو معزز سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کی ہمارے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا ہے۔یہ ذلیل اور ادنیٰ درجہ کے لوگ ہیں یا جب مسلمان روپیہ خرچ کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ نیک نامی چاہتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں توکہتے ہیں دکھاوے کے لئے پڑھتے ہیں، صدقہ و خیرات دیتے ہیں توکہتے ہیں نام و نمود کے لئے ایسا کرتے ہیں۔غرض ان کے ہر نیک کام کو برے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔لیکن ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ جس مقام پر وہ کھڑے ہیں وہ کوئی عزت بخشنے والا نہیں۔فرماتا ہے کَلَّا دشمن اس خیال میں نہ رہے کہ جس مقام پر مسلمان کھڑے ہیں وہ تباہی و بربادی کی طرف لے جانے والا ہے اور جس مقام پر وہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے وہ قائم رہنے والا ہے لَيُنْۢبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ وہ ایک بھڑکنے والی آگ میں ڈالا جائے گا۔یہ بھڑکنے والی آگ کیا ہے؟ مفسرین نے اپنی عادت کے مطابق