تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 269
بخل سے کیوں کام لیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ۔وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اس کی بقا کا باعث ہو گا یعنی مالدار لوگوں میںبخل کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے دلوں میںیہ احساس ہوتا ہے کہ جمع کیا ہوا مال ہمارے خاندان کی عزت کا موجب ہوگا۔اسی وجہ سے وہ تکالیف برداشت کرتے ہیں مگر روپیہ خرچ نہیں کرتے۔ایک ادنیٰ بخیل کے ذہن میں تو یہ بات ہوتی ہے کہ میں آج سے دس سال کے بعد اپنے بیٹے کی شادی پر یا اپنے مکان کی تعمیرپر روپیہ خرچ کروں گا مگر بڑے بخیل کے ذہن میں یہ بات نہیں ہوتی۔وہ چاہتا ہے کہ میں بھی روپیہ جمع رکھوں میری اولاد بھی روپیہ جمع کرتی جائے اور اس کی اولاد بھی روپیہ جمع کرتی جائے تاکہ ہمارے خاندان کا نام اور اس کی شہرت قائم رہے۔وہ سمجھتا ہے کہ مال رہنے کی وجہ سے ہمارے خاندان کو دائمی عزت حاصل ہوجائے گی۔حالانکہ اگر وہ سوچے تو اسے روزانہ یہ نظارے نظر آسکتے ہیں کہ ایک شخص بڑی مشکل سے روپیہ جمع کرتا ہے وہ خود بھوکا رہتا ہے، پیاسا رہتا ہے، ننگا رہتا ہے، بیمار رہتا ہے مگر روپیہ خرچ نہیں کرتا۔چاہتا ہے کہ اس کے پاس کافی مال جمع ہوجائے مگر جب مر جاتا ہے تو اس کی اولاد تمام روپیہ عیاشی میں برباد کردیتی ہے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ چونکہ مہاراجہ جموں کے شاہی طبیب تھے اس لئے ریاست کے کئی مالدار لوگوں سے آپ کے تعلقات رہا کرتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے ایک دفعہ ایک بڑا مالدار شخص مرگیا تو تھوڑے دنوں کے بعد ہی مجھے ایک شخص نے آکر کہا کہ اس کے بیٹے نے عجیب طرح روپیہ لٹانا شروع کردیا ہے۔میں نے کہا کس طرحـ؟ وہ کہنے لگا ایک دن وہ بازار میں سے گذر رہا تھا کہ اس نے ایک بزاز کو تھان میں سے کچھ کپڑا پھاڑتے دیکھا جس میں سے چر کی آواز پید اہوئی۔یہ آواز اسے ایسی پسند آئی کہ اب اس کا دن رات یہی کام ہے کہ وہ بازار سے کپڑے کے تھان منگواتا ہے اور اپنے نوکروں سے کہتا ہے کہ میرے سامنے انہیں صبح سے شام تک پھاڑتے رہو۔کیونکہ کپڑے کے پھاڑنے سے جو چر کی آواز نکلتی ہے وہ مجھے بڑی اچھی معلوم ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے میں نے اسے بلا کر سمجھایا اور کہا کہ اس طرح روپیہ برباد مت کرو یہ بالکل لغو طریق ہے۔اس نے جواب دیا مولوی صاحب جو مزا اس چر میں ہے وہ اور کسی چیز میں نہیں۔تم اسے دماغ کی خرابی کہہ لو مگر آخر ہوا کیا؟ یہی کہ باپ نے جو روپیہ جمع کیا تھا وہ سب برباد ہوگیا۔باپ نے نامعلوم کن کن مصیبتوں سے روپیہ جمع کیا ہوگا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے بیٹے کے دماغ میں ایسی خرابی پیدا کردی کہ اس نے تما م روپیہ برباد کردیا۔اسی طرح ایسے ایسے بخیل بنیئے جو ساری عمر دال سے بھی روٹی نہیں کھاتے اور روپیہ جمع کرتے رہتے ہیں ان کی اولادیں جوئے اور سٹہ میں سب روپیہ برباد کردیتی ہیں۔پس فرماتا ہے يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ قائم رکھے گا۔حالانکہ مال قائم نہیں رکھتا