تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 258

گردن کو خاص طریق پر حرکت دی جائے تو اس کے لئے بھی ھمز کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔جہاںتک مارنے اور دھکا دینے کا سوال ہے یہ معنے هـمز اور لمز دونوں میں پائے جاتے ہیں۔اسی طرح عیب چینی کے معنے بھی دونوں میں پائے جاتے ہیںلیکن ھمز میں اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ پیٹھ پیچھے عیب چینی کی جائے اور لمز میں اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ منہ پر عیب چینی کی جائے پھر ھمز کے ایک زائد معنے نچوڑنے کے بھی ہیں۔تفسیر۔صحابہ اور تابعین میں آیت وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ کے معنے میں اختلاف مفسرین میں حتی کہ صحابہؓ اور تا بعین میں بھی اس آیت کے متعلق کثیر اختلاف پایا جاتا ہے کہ جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوںالفاظ لغت میںقریباً ہم معنی ہیں۔کسی نے ھمز کے معنے عیب چینی کے کئے ہیں اور لمز کے معنے غیبت کے کئے ہیںاور کسی نے لمز کے معنے عیب چینی کے کئے ہیںاور ھمز کے معنے غیبت کے کئے ہیں۔لیکن اس اختلاف کی اصل وجہ وہی ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہے کہ یہ دونوں لفظ قریب المعنیٰ ہیںاور اس وجہ سے مختلف لوگوں کو ان کے معنے کرنے میںشبہ واقع ہو گیا ہے چونکہ یہ دونوں الفاظ قریب المعنیٰ تھے وہ پورے طور پر یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ اس آیت میں ھمز کن معنوں میں استعمال ہوا ہے اور لمز کن معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ لغت کی تدوین بعد کے زمانہ میں ہوئی ہے۔جب کسی علمی زبان کا دنیا میں رواج شروع ہوتا ہے اسی وقت اس کی لغت مکمل نہیں ہو جاتی بلکہ آہستہ آہستہ لغت کی کتابیں مدوّن ہونی شروع ہوتی ہیں تب لوگ کسی صحیح نتیجہ پر پہنچتے ہیںاس سے پہلے نہیں۔اسی وجہ سے جہاں تک لغت کا سوال ہے ابتدائی زمانہ کے مفسرین کے معنے ایسی تعیین نہیں کرتے جیسی تعیین بعد کے مفسرین کرتے ہیںکیونکہ بعد میں آنے والے مفسرین کو لغت کی مکمل کتا بیں مل گئیں جو پہلے موجود نہیں تھیں۔مثلا ہمارے زمانہ میں تاج ا لعروس موجود ہے، لسان العرب موجود ہے اور لغت کی یہ دونوں کتا بیں اپنے اندر بہت وسیع معلومات رکھتی ہیں اور ان میں بڑی بڑی باریکیاں بیان ہیں۔لیکن تاج العروس آج سے تین سو سال پہلے لکھی گئی تھی اور لسان العرب آج سے چھ سات سو سال پہلے لکھی گئی تھی۔اس سے قبل ایک لمبا عرصہ ایسا گذرا ہے جس میں لغت کی کتابیں مدوّن نہیں تھیں۔گو عربی زبان کا یہ ایک بہت بڑا کمال ہے کہ تھوڑے عرصہ میں ہی اس نے اپنی لغت کو عروج تک پہنچا دیا۔مگر پھر بھی میرے نزدیک ابھی اس میں ترقی کی گنجائش ہے اور یہ لغت زیادہ بہتر طور پر مکمل ہو سکتی ہے کیونکہ آئمہ لغت نے بعض جگہ سیر کن بحثیں نہیں کیں۔لیکن پھر بھی ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ اس قدر عظیم الشان علمی ذخیرہ ہے کہ انگریز مصنف لین پول ایک جگہ عربی لغت کا ذکر