تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 256
عظیم الشان معجزہ ہے کہ جس وقت اسلام صرف چند افراد پر مشتمل تھا اسی وقت اس کی ترقی کے بعد تنزّل اور اس کے تنزّل کے بعد کی ترقیات کا ذکر کیا جا رہا تھا اس قدر عظیم الشان علم غیب اور کسی کتاب میں نہیں پایا جاسکتا۔گویا اللہ تعالیٰ کے اظہار علی الغیب کا کمال قرآن کریم میںاپنی مکمل شکل میںظاہر ہوا ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے(شروع کرتا ہوں) وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ۰۰۲ ہر غیبت کرنے والے (اور) عیب چینی کرنے والے کے لئے عذاب (ہی عذاب) ہے۔حلّ لُغات۔وَیْلٌ۔وَیْلٌ عذاب کے نازل ہونے یاہلاکت کے نازل ہونے کے معنوں میں آتا ہے (اقرب) یعنی اس بات کے بتانے کے لئے کہ جس شخص کے متعلق یہ لفظ بولا جاتا ہے اس کو اپنے مال یا عزت یا راحت و چین کے بارہ میں کوئی تکلیف پہنچے گی۔گویا وہ تمام چیزیں جن کو انسان اچھا سمجھتا ہے یا جن کو اپنی عزت اور آرام کا موجب سمجھتا ہے اور جن کے ضائع ہونے پر وہ افسوس کا اظہار کرتا ہے ان کے کھوئے جانے کی طرف جب اشارہ کرنا مقصود ہو تو وَیْلٌ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے پس وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ کے معنے یہ ہوئے کہ عذاب آنے والا ہے ہر هُـمزة اور لُمزۃ پر یا اپنی عزت کی چیزیںاور راحت وآرام کی چیزیں هُـمزة اور لُمزة کھونے والا ہے۔یہ لفظ جب کسی کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ وہ اس عذاب اور ہلاکت کا مستحق ہی ہے یوں ہی اتفاقی یا ظلماً اس کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوا مثلاً اگر کسی شخص پر ظلماً کوئی ایذاء وارد ہو تو اس کے بارہ میں یہ نہ کہیںگے کہ وَیْلٌ۔هَـمَزَ اور لَمَزَ عربی زبان کے لحاظ سے ایک ہی معنے رکھتے ہیں کیونکہ م اور ز ان دونوں میں پائے جاتے ہیں۔اور عربی زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ حروف بھی معنوں پر دلالت کرتے ہیںاور جب ایک قسم کے حروف ہوں تو ان کے معنوں میں اشتراک پایا جاتاہے۔ان دونوں لفظوں میں م ز مشترک ہیںصرف فرق یہ ہے کہ ایک سے پہلے ہ ہے اور ایک سے پہلے ل آخری دونوں حروف دونوں لفظوں میں مشترک ہیںجس کے یہ معنے ہیں کہ ان کے معنوں میں شدید اتصال ہونا چاہیےچنانچہ ایسا ہی ہے اور دونوں کے معنے بہت حد تک مشترک ہیں۔چنا نچہ لغت میں لکھا ہے