تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 251

خرابی کی مگر اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ ہم خاندان کے افراد کو چھوڑ نہیں سکتے ہم مجبور ہیں کہ ان کا ساتھ دیں اور اپنے خاندان کو دوسروں کے مقابلہ میں ذلیل نہ ہونے دیں۔پس قدیم تعلقات کی وجہ سے عدل کی روح بالکل مٹ جاتی ہے لیکن جب نبی آتا ہے تو دنیامیں ایک انقلاب پیدا ہوجاتا ہے اور عدل و انصاف کی وہ روح جو پائوں تلے مسلی جارہی ہوتی ہے ازسرنو زندہ ہوجاتی ہے وہ لوگ جنہیں اس پر ایمان لانے کی سعادت نصیب ہوتی ہے کہتے ہیںکہ ہم دنیا میں انصاف قائم کریں گے۔ہم مظلوم کو اس کا حق دلائیں گے۔ہم ظالم کو اس کے کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔ہم یہ کبھی برداشت نہیں کریں گے کہ سرمایہ دارمزدور پر ظلم کرے یا امیر غریب کو لوٹنے کی کوشش کرے وہ عدل و انصاف کے پیکر ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرتے ہیں کہ ہمیشہ عدل و انصاف سے کام لینا چاہیے۔(۴) حَقّ کے چوتھے معنے اَلْیَقِیْنُ بَعْدَ الشَّکِّ کے ہیں۔اس لحاظ سے تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے یہ معنے ہوں گے کہ مومن شکوک و شبہات پر یا قیاس و تخمین پر اپنے ایمان کی بنیاد نہیں رکھتے بلکہ اپنے عقائد کی بنیاد یقین پر رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرتے ہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق محض رسمی اعتقاد پیدانہ کرو بلکہ وہ ایمان پیدا کرو جو مشاہدہ پر مبنی ہوتا ہے۔درحقیقت یقین پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ نبی کا وجود ہی ہوتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے اور وہ اپنی صداقت کے زندہ نشانات لوگوں کے سامنے پیش کرتاہے تو شکوک و شبہات بالکل مٹ جاتے ہیں اور قیاس و تخمین کی بجائے ایمان کی بنیاد مشاہدہ پر آجاتی ہے پس تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے معنے یہ ہیں کہ مومن خود بھی یقین پر قائم ہوتے ہیں اور دوسروں سے بھی یہی کہتے ہیں کہ تم خدا تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین پیدا کرو۔رسمی ایمان تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا۔آج مسلمانوں کی یہی کیفیت ہے کہ ان کے اندر اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر محض رسمی ایمان پایا جاتا ہے۔وہ ایمان جس کی یقین پر بنیادیں ہوتی ہیں اور وہ ایمان جو مستحکم اور غیرمتزلزل ہوتا ہے اس کا وجود ان میں کلی طور پر مفقود ہے۔بے شک وہ بظاہر اسلام کو سچا مذہب سمجھتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر بھی ایمان رکھتے ہیں لیکن اگر ان سے پوچھا جائے کہ تم اسلام کیوںمانتے ہو یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر کیوں ایمان رکھتے ہو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محض اس لئے سچا مانتے ہیںکہ ان کے ماں باپ یہ عقیدہ رکھتے تھے یا اس لئے سچا مانتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے گھر پیداہو گئے ہیں۔اس سے بڑھ کر ان کے پاس اپنے مذہب کی سچائی کاکوئی ثبوت نہیں ہوتا۔میں نے خود کئی تعلیم یافتہ لوگوں سے یہ سوال کرکے دیکھا ہے مگر مجھے ہمیشہ ان کی طرف سے