تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 248
کسی کو وابستگی ہو جائے وہ اس سے ہٹا نہیں کرتا۔صرف صداقت کی جستجو کا احساس ہی اسے ان بندھنوں سے نجات دیا کرتا ہے۔ورنہ جب ایک لمبی عادت کسی غلطی کے متعلق قوم میں پائی جائے اور صداقت کی جستجو کا احساس اس کے قلب میں نہ رہے تو اس غلطی کو ترک کرنا لوگوں کے لیے سخت مشکل ہوتا ہے وہ سچائی پر اعتراض کرنے کے لیے تو تیار ہو جاتے ہیںمگر یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اپنی غلطی کی اصلاح کریں۔جب کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تو کئی لوگوں کے دلوں میں اس کے متعلق حسد پیدا ہو گیا مگرچونکہ وہ خود کوئی ایسا کام نہیں کر سکتے تھے اس لیے انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ کولمبس نے اگر امریکہ دریافت کر لیا ہے تو اس میں کون سی بڑی بات ہے یہ کام تو ہم میں سے ہر شخص کر سکتا تھا۔جو بھی جہاز میں سوار ہو کر نکل پڑتا آخر ایک دن اس نے امریکہ پہنچ ہی جانا تھا۔یہ کوئی ایسا کارنامہ نہیں جسے سراہا جائے اور جس کے سر انجام دینے پر کولمبس کی تعریف کی جائے۔جب کولمبس کو معلوم ہوا کہ میرے متعلق بعض لوگ اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔تو اس نے ایک پارٹی میں بہت سے لوگوں کو مدعو کیا اور اپنی جیب میں سے ایک انڈا نکال کر ان سے کہا کہ اسے میز پر کھڑا کر دو۔سب ادھر ادھر دیکھنے لگے اور کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ انڈے کو میز پر کس طرح کھڑا کیا جائے۔کولمبس نے سوئی نکالی ا ور انڈے میں سوراخ کرکے اس میں سے تھوڑا سا لعاب نکالا اور انڈے کو چپکا کر میز پر کھڑا کردیا۔اس پر لوگ کہنے لگے یہ کون سی بڑی بات تھی یہ تو ہم بھی کرسکتے تھے۔کولمبس نے کہا میں نے سنا ہے کہ تم امریکہ کے متعلق یہ کہہ رہے ہو کہ اگر کولمبس نے اس کی دریافت کرلی ہے تو اس میں کوئی بڑی بات نہیں۔اگر ہمیں موقع ملتا تو ہم بھی دریافت کرلیتے۔امریکہ دریافت کرنے کا تو تمہیں موقع نہیں ملا لیکن انڈے کو میز پر کھڑا کرنے کا تو تمہیں موقع مل گیا تھا پھر تم کیوں اس کو کھڑا نہ کرسکے۔اصل بات یہ ہے کہ صداقت کے اصول بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔سوال صرف کام کرنے اور صداقت سے وابستگی پیدا کرنے کا ہوتا ہے۔جن لوگوں کے دلوں میں سچائی کی تلاش کا جذبہ ہوتا ہے وہ معمولی معمولی باتوں سے بڑے بڑے اہم نتائج اخذ کرلیتے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ سچائی ہمیں کہاں سے ملی ہے۔وہ سچائی کی طرف ایک پیاسے کی طرح اُمڈ کر جاتے ہیںاور اپنے سابق غلط خیالات کو فوراً ترک کردیتے ہیں لیکن جن لوگوں کے دلوں میں صداقت کا کوئی احساس نہیں ہوتا ان کے لئے اپنی پرانی غلطیوں کو چھوڑنا سخت مشکل ہوجاتا ہے۔آخر یہ بھی کوئی مسئلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں بلکہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔جب ساری دنیا آدم سے لے کر اب تک مرتی چلی آئی ہے تو یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام موت سے بچ جاتے اور