تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 233
کے احیاء کے لئے کوئی نبی آئے اور انہیں اس پرایمان لانے کی سعادت حاصل ہوجائے۔یہ ایک ایسا قاعدہ ہے جس کے خلاف دنیا میں کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔جب بھی کوئی مذہبی جماعت گری ہے ہمیشہ کسی نبی کے ذریعہ ہی اس کا احیاء ہوا ہے اس کے بغیر کسی قوم کا آج تک احیاء نہیں ہوا۔مثلاً تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے حضرت کرشنؑ آئے اور پھر حضرت رام چندرؑ آئے یا ہندوئوں کے خیال کے مطابق پہلے حضرت رامؑ آئے اور بعد میں حضرت کرشنؑ آئے ان میں سے کوئی صورت سمجھ لو۔ہمارے نزدیک پہلے حضرت کرشنؑ کے ذریعہ ہندو قوم کو ترقی حاصل ہوئی اور پھر ایک لمبے عرصہ کے بعدجب ان میں تنزّل پیدا ہوا تو وہ تنزّل اس وقت دور ہوا جب حضرت رامؑ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوگئے۔یا ہندوئوں کے عقیدہ کے مطابق پہلے حضرت رامؑ کے ذریعہ ان کو ترقی ملی اور بعد میں حضرت کرشنؑ نے ان کو عروج تک پہنچایا۔اس کے بعد جب پھر ان میں تنزّل پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت بدھؑ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث فرما دیا جن پر ایمان لاکر قوم کاتنزل دور ہوا۔بہرحال جب بھی کسی مذہبی جماعت کو تنزّل کے بعد عروج ہوا ہے ہمیشہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ حاصل ہوا ہے۔دنیوی تدابیر سے کام لے کر آج تک کوئی ایک مذہبی جماعت بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکی یہ اللہ تعالیٰ کا ایک اٹل قانون ہے جس کے خلاف ہمیں کوئی نظارہ نظر نہیں آتا اور کوئی شخص ایسی مثال پیش نہیں کرسکتا کہ فلاں جماعت جس کا مذہب کے ساتھ تعلق تھا ترقی کے بعد گرچکی تھی مگر محض دنیوی تدابیر سے کام لے کر اس نے دوبارہ عروج حاصل کرلیا۔مذہبی جماعتوں کے زوال کے بعد ترقی اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ وابستہ کردی ہے۔جو قوم یہ وابستگی پیدا کرلیتی ہے وہ عروج حاصل کرلیتی ہے اور جو اس وابستگی سے محروم رہتی ہے وہ خواہ لاکھ تدابیر اختیار کرے کبھی اپنے زوال کو دور نہیں کرسکتی۔مثلاً یہودیوں کو دیکھ لو پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کی طرف مبعوث ہوئے اور انہوں نے قوم کو عروج تک پہنچایا۔اس کے بعد جب ان میں تنزّل پیدا ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے اور انہوں نے ایک گری ہوئی قوم کو ترقی کے بلند مینار تک پہنچادیا۔پھر تنزّل پیدا ہوا تو حضرت شمعونؑ آگئے جنہوں نے قوم کی اصلاح کی پھر تنزّل پیدا ہوا تو حضرت دائودؑ آگئے اور انہوںنے اصلاح کی۔غرض ہمیشہ انبیاء کے ذریعہ ہی ان کو ترقی حاصل ہوئی۔ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ نبی پر ایمان لائے بغیر انہیں محض دنیوی تدابیر سے عروج حاصل ہوگیا ہو۔اسی طرح بابل کی حکومت نے ان کو تباہ کردیا تو اللہ تعالیٰ نے عزرا نبی کو کھڑا کردیا جس نے ان کی ذلت دور کی۔پھر گرے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرما دیا۔یہ نہیں ہوا کہ دنیوی لیڈروں کی اتباع کرکے انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہو یا مادی تدابیر نے ان کو ترقی تک پہنچادیا ہو۔یہی قانون اب مسلمانوں کے متعلق بھی کام کررہا ہے۔مسلمان اپنی نادانی کی وجہ سے یہ سمجھتے