تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 228
آنے والی جماعت کے مقابلہ میں ہار جائیں گے ان کی طاقت کچل دی جائے گی اور یہ نشان دنیا میں پھر ظاہر ہوگا کہ زمانہ نبوت میں جو قوم اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے مقابلہ میں کھڑی ہوتی ہے وہ یقیناً خسران وتباب میں رہتی ہے۔بعض لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ تم ایسا کیوں کہتے ہو کہ نبی پر ایمان لائے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔دنیا کی ترقی تو دنیوی سامانوں سے وابستہ ہے نہ کہ ایمان باللہ اور ایمان با لرسل کے ساتھ۔جب دنیا میں ہمیشہ سے وہی اقوام جیتتی چلی آئی ہیں جو اپنے ساتھ دنیوی سامان رکھا کرتی ہیں تو اس نظریہ کے خلاف تم یہ نیا نظریہ کیوں پیش کر رہے ہو کہ جب تک لوگ اللہ تعالیٰ کے مامور پر ایمان نہ لائیں وہ کبھی ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔آج کل بھی احمدیت کے مقابلہ میں مسلم اور غیر مسلم دونوں طبقوں کی طرف سے یہ سوال پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ترقی کا اصل ذریعہ تو یہ ہے کہ مدرسے جاری کئے جائیںیونیورسٹیاں بنائی جائیں، کارخانے قائم کئے جائیں، صنعت وحرفت کو فروغ دیا جائے، سیاسی امور میں حصہ لیا جائے، اپنی طاقت اور جتھہ کو بڑھایا جائے، نہ یہ کہ ان امور کی طرف تو توجہ نہ کی جائے اور نبی پر ایمان لانے کی لوگوں کو دعوت دینی شروع کر دی جائے۔نبی پر ایمان لانا کسی قوم کو ترقی نہیں دے سکتا۔ترقی کی صورت صرف یہی ہے کہ دنیوی تدابیر کو اپنے کمال تک پہنچا دیا جائے اور ہر قسم کے مادی سامان جو ترقی کے لئے ضروری ہوتے ہیں ان کو جمع کیا جائے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہر زمانہ میں دنیا دنیوی اسباب سے ترقی کرتی ہے لیکن زمانہ نبوت میں دنیوی اسباب سے نہیں بلکہ روحانی اسباب سے ترقی کیا کرتی ہے تاکہ خدا کا جلال ظاہر ہو اور تا دنیا دین کی خادم ثابت ہو۔اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کی باد شاہت دنیا پر ثابت نہیں ہو سکتی وہ بادشاہت جس کے متعلق حضرت مسیح ناصریؑ نے بھی دعا کی اور کہا کہ اے خدا جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے ویسی ہی زمین پر بھی آئے(متی باب ۶ آیت ۱۰)۔اگر دنیا ہمیشہ دنیوی سامانوں سے جیتتی چلی جائے تو لوگو ں کو خدا تعالیٰ کی باد شاہت کا کس طرح پتہ لگ سکتا ہے اور وہ کیونکر معلوم کر سکتے ہیںکہ ایک زندہ خدا موجود ہے جس کے منشاء کے خلاف اگر دنیا کی تمام طاقتیں بھی متحد ہو جائیںتو وہ خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بن کر تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔یقیناً اگر ایسا نہ ہوتا تو بہت سے لوگ ہدایت پانے سے محروم رہ جاتے اور اکثر لوگوں پر دین کی برتری مشتبہ ہوجاتی مگر جب دنیوی سامانوںکے خلاف ہوتے ہوئے ایک نبی خبر دیتا ہے کہ میں جیت جائوںگا اور میرے مقابلہ میں جس قدر طاقتیں کھڑی ہیںوہ ہر قسم کے سامان رکھنے کے باوجود ناکام رہیں گی اور پھر واقعہ میں ایسا ہی ہو جاتا ہے تویہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ خدا کی حکومت دنیا میں موجود ہے۔آج یورپین مصنّف بڑے زور سے لکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر دنیا میں کامیاب ہو گئے تو