تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 212

لَتَرَوُنَّ الْجَحِيْمَ کے متعلق بعض نے کہا ہے کہ یہ قسم محذوف کا جواب ہے کیونکہ جحیم دیکھنا کفار کے علم یقین کے ساتھ لازم نہیں ہے لیکن یہ درست نہیں کیونکہ رویت بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔رویت عقلی، رویت عینی اور رویت مشاہدہ۔علم الیقین کے بدلہ میں بھی ایک رویت حاصل ہوتی ہے جو رویت علمی ہوتی ہے۔جب کسی شخص کو بہ دلائل کسی آنے والی مصیبت کا علم ہو جاتا ہے تو اس علم کے مطابق اس کے قلب کو اس مصیبت کے متعلق تکلیف بھی محسوس ہونے لگتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوا لسلام نے یہی معنے مراد لیے ہیںاور فرمایا ہے کہ اس سورۃ میں علم کی دو اقسام بیان کی گئی ہیں علم الیقین اور جو علم اس کے بعد آتا ہے یعنی عین الیقین۔یقین کی ایک تیسری قسم بھی آپ نے بیان کی ہے یعنی حق الیقین جس کا ذکر سورۃالحاقہ میں ان الفاظ میں ہے کہ وَاِنَّہٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ( الـحاقۃ:۵۲ ) پس اس جگہ رویت سے مراد رویت عقلی یا رویت علمی ہے۔ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِيْنِ کہہ کر فرمایا کہ یہ تو علمی بات تھی مگر میں پھر کہتا ہوں کہ تم ضرور دیکھ لو گے کہ موت تمہاری آنکھوں کے سامنے کھڑی ہے۔ابھی تک تو تمہیں علمی رویت بھی حاصل نہیں لیکن تھوڑے دنوں تک تمہیں صرف علمی رویت ہی نہیں بلکہ عینی رویت بھی حاصل ہو جائے گی یعنی صرف دنیوی احساس ہی تباہی کے قریب پیدا نہ ہوگا بلکہ واقعہ میں پھر بلا نازل ہو جائے گی اور اسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کیونکہ مجھے خدا نے بتایا ہے کہ تم ضرور تباہ ہو جائو گے۔یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ تم پہلے دنیا میں اپنی تباہی دیکھو گے اور پھر آخرت میں عذاب الیم کا شکار بنو گے۔ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِؒ۰۰۹ پھر ( یہ بھی یاد رکھو کہ)تم سے اس دن (ہر بڑی ) نعمت کے متعلق سوال کیا جائے گا ( کہ تم نے اس کا شکر اداکیا یا نہ) تفسیر۔نَعِیْم کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے اس کے متعلق عربی سے ناواقف لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ جمع ہے۔مجھے یاد ہے بچپن میں مَیںبھی اس غلطی میں مبتلا تھا۔عام تراجم میں بھی غلطی سے نَعِیْم کے معنے نعمتوں کے ہی کئے جاتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔نَعِیْم کے معنے صرف نعمت کے ہیں نعمتوں کے نہیں۔مگر اس لفظ کی بناوٹ کچھ ایسی ہے کہ لوگ اس سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔