تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 211

شیخ چلی نے کہا تو کوئی عالم الغیب ہے تجھے کس طرح پتہ لگا کہ میں گر جائوں گا۔جائو میں تمہاری بات نہیں مانتا۔وہ چلا تو تھوڑی دیر کے بعد ہی شاخ کے کٹتے ہی شیخ چلی بھی نیچے آ گرا۔یہ دیکھ کر وہ اس شخص کے پیچھے بھاگا اور کہنے لگا معلوم ہوتا ہے تو ولی ہے۔کیونکہ جو بات تو نے کہی تھی وہ با لکل سچی نکلی اور میں گر پڑا۔اس نے کہا میں ولی نہیں میں نے ایک طبعی نتیجہ نکالا تھا کہ چونکہ تم اسی شاخ کو کاٹ رہے ہو جس پر خود بیٹھے ہو اس لئے تمہارا گرنا یقینی ہے۔تو ہر فعل کا ایک طبعی نتیجہ ہوتا ہے جو بہر حال نکلتا ہے اور عقلمند انسان سمجھتا ہے کہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس کا کیا اثر ہو گا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری عقلیں تو اتنی ماری ہوئی ہیں کہ تم ذرا بھی غور سے کام نہیں لیتے۔اگر تم علمی طور پر ہی غور کرتے تو تمہیں یقین آجاتا کہ تم مر رہے ہو اور ہلاکت کے سامان تمہارے لیے چاروں طرف سے جمع ہیں۔قومی ہلاکت کے ایک خدائی سامان ہوتے ہیں اور ایک دنیوی سامان ہوتے ہیں۔خدائی سامان تو یہ ہوتے ہیں کہ مثلاً اللہ تعالیٰ کو نہ مانا، اس کے نبیوں کو نہ مانا،اس کے احکام کی خلاف ورزی کی۔اور دنیوی سامان یہ ہوتے ہیں کہ قوم میں ظلم پایا جائے۔غرباء و مساکین کی طرف اسے کوئی توجہ نہ ہو۔عیاشی میں اس کے دن رات بسر ہونے لگیں۔یہ دونوں سامان تمہارے لیے جمع ہیں۔تم نے خدا تعالیٰ کو بھی ناراض کر لیاہے اور بنی نوع انسان سے بھی تمہارا سلوک سخت ناقص ہے اور جب حالت یہ ہے تو تم کیونکر سمجھتے ہو کہ تم موت سے بچ سکو گے۔پس فرماتا ہے كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ۔لَتَرَوُنَّ الْجَحِيْمَ اگر تم میری بات نہیں مانتے تو نہ مانو۔جو کچھ میں کہتا ہوں اسے جھوٹ کہہ دو مگر کیا تم نے علمی رنگ میں بھی کبھی اپنے حا لات پر غور نہیں کیا کاش تمہیں علم الیقین ہی ہوتا تو تم سمجھتے کہ جس قوم میں تعلیم نہ ہو، جس قوم میں صدقہ وخیرات کی عادت نہ ہو،جس قوم میں انصاف نہ ہو، جس قوم میں انتظام نہ ہو،جس قوم میں رأفت نہ ہو اور رحمت نہ ہو وہ یقیناًہلاک ہو جاتی ہے اس میں کسی نبی کے بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔پس اگر تم میری باتوں کو تسلیم نہ کرتے صرف اپنے اندر علم الیقین پیدا کر لیتے تب بھی تم دیکھ سکتے تھے کہ جہنم تمہارے سامنے کھڑی ہے۔تم دیکھتے کہ ہم قوم کو تعلیم نہیں دے رہے۔تم دیکھتے کہ ہم قوم سے انصاف نہیں کر رہے تم دیکھتے کہ ہم اس کے حقوق کو نظر انداز کر رہے ہیں تم دیکھتے کہ ہم میں دیانت کی روح موجود نہیں، تم دیکھتے کہ ہم میں امانت کی روح موجود نہیں،تم دیکھتے کہ ہم میں تقویٰ کی روح موجود نہیں اگر تم دیکھتے کہ ہم میں عدل و انصاف کی روح موجود نہیں اسی طرح تم دیکھتے کہ ہم روپیہ کو صحیح طور پر خرچ نہیں کر رہے ہم اپنے باپ دادوں کی جائیدادوں کو عیاشی میں برباد کر رہے ہیں۔اگر تم ان باتوں پر ذرا بھی غور کرتے تو لَتَرَوُنَّ الْجَحِيْمَ تم جہنم کو اپنے سامنے کھڑا پاتے یعنی تم میری باتوں کو بے شک جھوٹ سمجھ لو لیکن اگر تم اپنے حالات پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے تو تم دیکھ سکتے تھے کہ جہنم تمہارے سامنے موجود ہے۔