تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 210
كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِؕ۰۰۶ (حقیقت تمہارے خیالات کے مطابق) ہرگز نہیں (ہے) کاش تم علم یقینی کے ساتھ (حقیقت کو ) جانتے لَتَرَوُنَّ الْجَحِيْمَۙ۰۰۷ (تو تم کو معلوم ہو جاتا کہ ) تم ضرور جہنم کو (اسی دنیا میں ) دیکھو گے ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِيْنِۙ۰۰۸ (بلکہ ) پھر تم اسے یقین کی آنکھ سے (آخرت میں ) بھی دیکھ لو گے۔تفسیر۔سابق مضمون کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ کفار مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم پھر کہتے ہیں خبردار ہو جائو۔کیوں تمہیں پتہ نہیں لگتا کہ تم ہلاکت اور بربادی کے گڑھے میں گر چکے ہو۔یہ بات تو با لکل قطعی اور یقینی ہے کہ تم مر چکے ہو۔زندگی کی کوئی علامت تم میں باقی نہیں رہی۔موت کے سب سامان تمہارے لیے پیدا ہوچکے ہیں۔خدا تعالیٰ کو تم بھلا چکے ہو بنی نوع انسان کے حقوق کو کلیۃً فراموش کر چکے ہو اور یہی دو چیزیں کسی قوم کی زندگی کی علامت ہوا کرتی ہیں۔قوم زندہ ہوتی ہے اسی طرح کہ خدا اس قوم کے افراد کے دلوں میں زندہ ہوتا ہے جس قوم یا جس فرد کے دل میں اللہ تعالیٰ زندہ ہو وہ انسان زندہ کہلاتا ہے اور یا پھر بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ کسی انسان کے دل میں ہو تو وہ انسان زندہ ہوتا ہے مگر تمہاری حالت تو یہ ہے کہ نہ تمہیں خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر کوئی یقین ہے نہ بنی نوع انسان کی خدمت کا کوئی جذبہ تمہارے اندر پایا جاتا ہے کاش تمہیں علم الیقین ہی ہوتاتب بھی تم اس حقیقت کو بھانپ لیتے اور سمجھ لیتے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے یعنی جانے دو اس بات کو کہ ہم نے تمہاری ہلاکت کے متعلق پیشگوئی کی ہے اور تم کہتے ہو کہ ہمیں اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا کوئی اعتبار نہیں مگر دنیا میں ہر فعل کا ایک مادی نتیجہ بھی ہوتا ہے اور جب کوئی شخص کسی فعل کا ارتکاب کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ میرے اس فعل کا کیا نتیجہ نکلے گا تو کیا تم اس نقطہ نگاہ سے اپنی حالت پر غور نہیں کرسکتے۔لطیفہ مشہور ہے کہ شیخ چلی درخت پر چڑھا تو اسی شاخ کو کا ٹنے لگ گیا جس پر وہ بیٹھا ہوا تھا نیچے سے کوئی شخص گذرا تو اس نے شیخ چلی سے کہا کہ میاں تم یہ کیا کر رہے ہو کہ اسی شاخ کو کاٹ رہے ہو جس پر خود بیٹھے ہو تم تو گر جائو گے۔