تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 209
میں تو یہ ایک ہنسی کے قابل بات بن جاتی ہے کہ جس بات کو ہر فرد تسلیم کرتا ہے اس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ دیکھو تمہیں اس کا عنقریب پتہ لگ جائے گا۔میں پھر کہتا ہوں کہ تمہیں اس کا عنقریب پتہ لگ جائے گا۔یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس جگہ تباہی اورذلت ورسوائی والی قبر ہی مراد ہے اور یہی وہ قبریں تھیں جن کا کفار مکہ کو بڑی سختی سے انکار تھا۔مٹی کی قبروں کو تو ابوجہل بھی تسلیم کرتا تھا مگر وہ اس بات کو ماننے کے لئے ہرگز تیار نہیں تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مَیں ہار جائوں گا۔ورنہ جس بات کو کوئی دوسرا شخص مانتا ہو اس پر زور دینا تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی دوسرے شخص سے کہے کہ میں کہتا ہوں تم آدمی ہو۔میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم آدمی ہو۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم آدمی ہو۔ان فقرات کو جو شخص بھی سنے گا ہنس پڑے گا کہ کہنے والا پاگل ہو گیا ہے پس اگر اس جگہ مٹی کی قبریں ہی مراد ہوتیں تو كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کہنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ اس موت کو تو کفار مکہ میں سے ہر فرد تسلیم کرتا تھا اور جس بات کو ان کا ہر چھوٹا بڑا تسلیم کرتا تھا اس پر زور دینا با لکل بے معنی ہو جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ قومی تباہی اور بربادی کو ہی مقابر قرار دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ دیکھو ہوشیار ہو کر سن لو تم ضرور جان لو گے کہ تم قبروں میں پہنچ چکے ہو۔ہم پھر کہتے ہیں کہ ہوشیار ہو جائو تم کو پتہ لگ جائے گا کہ ہم سچ کہتے ہیں كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ میں جو تکرا ر آیا ہے اس کے متعلق بعض نے کہا ہے کہ یہ تکرار تاکید مضمون کے لیے آیا ہے (تفسیر الرازی سورۃ التکاثر زیر آیت كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاص مواقع پر بات کو بار بار دہراتے تھے۔اس صورت میں ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ میں یہ محذوف سمجھا جائے گا کہ ثُمَّ اَقُوْلُ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ اس جگہ تکرار محضہ نہیں بلکہ چونکہ واقعہ مقرر ہوگا اس لئے دو دفعہ بیان کیا ہے۔ان کے نزدیک پہلا تَعْلَمُوْنَ قبر کے متعلق ہے اور دوسرا نشر کے متعلق۔وہ فرماتے ہیں اَلْاَوَّلُ فِی الْقُبُوْرِ وَالثَّانِیْ فِی النُّشُوْرِ۔(روح المعانی سورۃ التکاثر زیر آیت كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) مگر میرے نزدیک اس جگہ یا تو تکرار توکید ہے یا پہلا جملہ دنیا کے متعلق ہے اور دوسرا آخرت کے متعلق۔جیسے فرمایامَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى(بنی اسـرآءیل:۷۳)یعنی تمہیں دنیا میں بھی اپنی ان حرکات کا انجام معلوم ہوجائے گا اور آخرت میں بھی تم عذاب الٰہی میں مبتلا کئے جائو گے۔