تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 207
پڑھ لیا ہے تو وہ کوشش کرے گا کہ دوسروں کو بھی قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا دے اور اگر کوئی شخص قرآن کریم کے معارف سے آگاہ ہو گیا ہے تو وہ کوشش کرے گا کہ میں دوسروں کو بھی قرآن کریم کے معارف سے آگاہ کر دوں غرض استباق کی روح اگر کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو وہ آن کی آن میں کہیں کی کہیں جا پہنچتی ہے۔اسی طرح فرماتا ہے وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ ( فاطر:۳۳) مومنوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو نیکیوں میں دوسروں سے آگے نکل جاتے ہیں۔پھر فرماتا ہے فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا( النّٰـزِعٰت:۵) مومنوں کی یہ علامت ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے نیکیوں میں مقابلہ کرتے ہوئے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔درحقیقت یہ علامت ان اقوام کی ہے جو اپنے اندر زندگی کی روح رکھتی ہیں۔وہ ہمیشہ کوشش کرتی ہیں کہ دوسروں سے آگے نکل جائیںاور نیکی کے میدان میں کسی کو سبقت نہ لے جانے دیں۔اسی طرح فرماتا ہے سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ( اٰل عـمران :۱۳۴) اے لوگو! تم اپنے رب کی مغفرت کی طرف ایک دوسرے سے جلد پہنچنے کی کوشش کرو یعنی تیزی کے ساتھ اپنے قدم بڑھائو اور خدا تعالیٰ کی مغفرت کو جلد سے جلد حاصل کرنے کی کوشش کرو۔یہ امر ظاہر ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی مغفرت کی طرف سر عت سے اپنے قدم بڑھائیں گے ان میں سے کوئی آگے نکل جائے گا اور کوئی پیچھے رہ جائے گا کسی شخص کو اس بات پر فخر ہوگا کہ میں نے دوڑ کر اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا مقام حاصل کر لیا اور کوئی حسرت وافسوس کے ساتھ آہ بھرے گا کہ میں نے وقت ضائع کر دیا اور خدا تعالیٰ کی مغفرت کو اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے حاصل نہ کر سکا۔بہر حال یہ آیات بتاتی ہیںکہ بعض قسم کے تفاخر اسلام میں ممنوع نہیں۔وہ تکا ثرجو انسان کو بنی نوع انسان کی خدمت میں مشغول کر دے جس تکاثر کے نتیجہ میں انسان کی روحانیت اور اس کا تقویٰ بڑھ جائے،جس تفاخر کے نتیجہ میں قوم کا معیار بلند ہو جائے وہ برا نہیں بلکہ اچھا ہے اور ہر سمجھدار انسان کا فرض ہے کہ وہ اس تکا ثر میں حصہ لے کیونکہ بغیر اس کے کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔اگر کسی لڑکے کو کالج میں بھیجا جائے اور وہ کہے کہ میں کالج میں نہیں جاتا کیونکہ میرے دوسرے ساتھی بھی نہیں جاتے۔اگر میں کالج میں گیا اور وہا ں میں نے تعلیم حاصل کی تو میں دوسروں سے بڑھ جائوں گا تو یہ اس کی حماقت کا ثبوت ہوگا کیونکہ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعداس کا دوسروں سے بڑھنا قوم کے لئے مفید ہوگا مضرنہیں ہوگا۔اگر وہ پڑھ کر آئے گا تو دوسروں کو بھی پڑھائے گا اور اس طرح قوم کا تعلیمی معیار اونچا ہوجائے گا۔پس تکاثر اور تفاخرکی ہر صورت ممنوع نہیں بلکہ صرف وہ تفاخر ممنوع ہے جو انسان کو مقابر کی طرف لے جاتاہے اور یہی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ کے بعد زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ کہا کیونکہ جسمانی موت تو خود آتی ہے لیکن یہ دینی یا اخلاقی یا قومی ہلاکت انسان خود بلاتا ہے اور اپنے قدموں چلتا ہوا اپنی قبر میں جا لیٹتاہے۔اگر