تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 202
تو ان کے بعد ایسا ہی ہوا۔عیسٰیؑ آئے تو ان کے بعد ایسا ہی ہوا۔محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ان کے بعد بھی ایسا ہی ہواگو خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں میں تقویٰ کا زمانہ بہت لمبا رہا ہے اور کم لوگ ایسے گذرے ہیں جنہوں نے تکاثر سے کام لیا۔بہر حال جب ایسازمانہ آتا ہے کہ انبیاء کی جما عتوں کی دنیوی عزت دیکھ کر لوگ واہ وا کہنے لگ جاتے ہیں تو تکا ثر کا راستہ کھل جاتا ہے اور وہ اس واہ وا کے اثر کے نیچے اسی راستہ پر چلنے لگتے ہیں جس راستہ پر پہلی قومیں چلیں اور جو اصل چیز ہوتی ہے اسے بھول جاتے ہیں اور جب دین کو بھول جاتے ہیںتو خالص مقصود دنیا رہ جاتی ہے اور وہ بے تحاشہ اس کی طرف بڑھنے لگتے ہیںآخر اس کے تین نتائج پیدا ہوتے ہیں۔دنیا طلبی کے تین نتائج اوّل۔بنی نوع انسان میں ان کے خلاف ردعمل پیدا ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تکاثر کے نتیجہ میں تکبر پیدا ہوتا ہے اور تکبر کے نتیجہ میں لوٹ مار اور ظلم پیدا ہوتا ہے آخر بنی نوع انسان میں ان کے خلاف جوش پیدا ہوتا ہے اور وہ حکومت کو تباہ کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔دوم۔کبھی بنی نوع انسان میں تو ان کے خلاف رد عمل پیدا نہیں ہوتا لیکن ان کی اپنی اولاد ان کی کمائی کواستعمال کر کے عیاش ہو جاتی ہے اور اس طرح ان میں اندرونی زوال پیدا ہونے لگتا ہے۔باپ دادا کی جائیداد چونکہ مفت ہاتھ میں آجاتی ہے اس لیے عیاشی میں مبتلا ہو کر وہ سب کچھ برباد کر دیتے ہیں۔بڑے بڑے بادشاہ ہوتے ہیں مگر عیاشی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ انہوں نے کنچنیاں رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔شرابیں پیتے رہتے ہیں اور حکومت کے کاموں کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ برباد ہوجاتے ہیں اور ان کی حکومت امراء میں تقسیم ہو جاتی ہے۔سوم۔یا پھر اللہ تعالیٰ سے ہی اس قوم کی ٹکر ہو جاتی ہے یعنی کوئی ایسا سبب پیدا ہو جا تا ہے کہ دنیوی تباہی کے سامان تو نہیں ہوتے لیکن خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو کر اس قوم کو با لکل تباہ کر دیتا ہے۔غرض جب کوئی قوم تکاثر کے نتیجہ میں زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ کے مقام پر پہنچ جائے تو اس میں ان تین حالتوں میں سے کوئی ایک حالت ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔یا تو رعایا میں رد عمل پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے حاکموں کو توڑ دیتے ہیں یا اندرونی طور پر حکام میں ایسا تنزّل پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ آپ ہی آپ ٹوٹنے لگ جاتے ہیں اور یا پھر خدائی غضب نازل ہو کر ان کو تباہ کر دیتا ہے۔مسلمانوں کے مقابل پر کفار مکہ کی حالت چونکہ گذشتہ کئی سورتوں سے اہل مکہ کو خطاب کیا جا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں بتایا جا رہاہے کہ تمہارا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کھڑاہونا اپنے آپ کو