تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 201

زندہ رہے چونکہ میں نے بہت بعد میں اسلام قبول کیا تھا اس لیے میں نے عہد کیا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ سے اب ہلوں گا نہیں۔لوگوں نے تو بہت باتیں سن لی ہیں مگر میں نے کچھ نہیں سنا۔معلوم نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی زندگی باقی ہے اس لیے اب میں آپ کے دروازہ پر پڑا رہوں گا تا ہر بات آپؐکی سنوں اور اسے یاد رکھوں۔چنانچہ میں مسجد میں ہی بیٹھا رہتا اور اس ڈر کے مارے کہ کہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف نہ لے آئیںاور آپ کی باتیں سننے سے محروم نہ رہوں ادھر ادھر بھی نہ جاتا اور نہ کوئی کمائی کرتا۔میں یہی سمجھتا تھا کہ اگر میں نے کوئی روزگار کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں پھر پرانے لوگ ہی سن لیں گے اور میں ان کے سننے سے محروم رہوں گا۔چنانچہ میں مسجد میں ہی بیٹھا رہتا۔بعض لوگ مجھے روٹی دے جاتے اور میں خدا تعا لیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسے کھا لیتا۔لیکن بعض دفعہ مجھے سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا اور کوئی شخص میرے لیے روٹی نہ لاتا آخر اس قدر ضعف ہو جاتا کہ میں بے ہوش ہو کر گر جاتا اور لوگ سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے۔عربوں میں اسلام سے پہلے یہ رواج تھا کہ جب کسی کو مرگی کا دورہ ہوتا تو اس کے سر پرجوتیاں مارتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ اس کا علاج ہے۔ابو ہر یرہؓ کہتے ہیں جب میں بے ہوش ہوتا تو لوگ اسی معمول کے مطابق میرے سر پر بھی جوتیاں مارنے لگ جاتے اور وہ سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے حالانکہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہوتا تھا۔اب کجا تو یہ حالت تھی کہ میں بھوک کی وجہ سے بے ہوش ہوجاتا تو لوگ میرے سر پر مرگی کا دورہ سمجھ کر جوتیاں مارتے اور کجا یہ حالت ہے کہ کسریٰ کا وہ رومال جس کا میلا ہونا بھی کسریٰ برداشت نہیں کر سکتا تھا میں اس میں بلغم تھوک رہا ہوں۔غرض صحابہؓ کے سامنے ہمیشہ اپنے ابتدائی حالات رہتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ ہماری پہلے کیا حالت تھی اور ہم نے کس طرح ترقی کی۔وہ سمجھتے تھے کہ ہماری ترقی محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی نصرت کا نتیجہ ہے ہماری کسی ذ اتی خوبی کا اس میں دخل نہیں یا اگر ہمیں یہ چیزیں ملی ہیںتو اس لیے نہیںکہ یہ چیزیں بڑی تھیں بلکہ اصل چیز تو تقویٰ وطہارت ہے یہ چیزیں محض بطور انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوئی ہیں۔مگر جب ان کی اولادیں پیدا ہوئیں۔جب وہ لوگ آئے جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نہیں دیکھا تھا۔جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی کمزوری کا مشاہدہ نہیں کیا تھا تو انہوں نے سمجھا کہ ہمارا خدا پر بھی حق ہے، ملائکہ پر بھی حق ہے،سلسلہ پر بھی حق ہے، لوگوں پر بھی حق ہے اور سب کا فرض ہے کہ ہمارے لیے آرام و آسائش کے سامان مہیا کریں۔اتنے میں یہودیوں اور عیسائیوں کی آوازیں بھی ان کے کانوں میں آنی شروع ہو گئیں کہ یہ لوگ بڑے دولت مند ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تکاثر میں مبتلاہو گئے اور خدا تعالیٰ کے انعامات کو بھول گئے۔ہر نبی کے بعد ایسا ہواہے۔موسٰی آئے