تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 198
نہیں رہی، اس میں اخلاقی زندگی نہیں رہی، اس میںدینی زندگی نہیں رہی، اس میں قومی زندگی نہیں رہی، اس میںسیاسی زندگی نہیں رہی، اس میں عائلی زندگی نہیں رہی۔جب کسی قوم یا فرد کی یہ حالت ہو تو کہتے ہیں اس پر موت طاری ہوگئی۔پس یہاں ان ساری چیزوں کی نفی کی گئی ہے جن سے تکاثر انسان کو محروم کردیا کرتا ہے اور کہا گیا ہے کہ تم میں دین بھی نہیں رہا، تم میں دنیا بھی نہیں رہی، تم میں اخلاق بھی نہیں رہے، تم میں علم بھی نہیں رہا۔ایسا آدمی کسی ایک موت کے نیچے نہیں ہزاروں موتوں کے نیچے دبا ہوا ہوتا ہے۔پس اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ کے معنے یہ ہوں گے کہ قومی طور پر تم پر تنزّل اور بربادی کا وہ دور آگیا ہے کہ جس کے بعد کوئی قوم زندہ نہیں کہلاسکتی۔اور گو اس میں مکہ والے مخاطب ہیں مگر اس ذریعہ سے یہ قانون بھی بیان کردیا گیا ہے کہ جو قوم تکاثر کے پیچھے پڑ تی ہے وہ مقبرہ کو پہنچ جاتی ہے یعنی وہ قوم آخر مرجاتی اور دنیا سے ہمیشہ کے لئے نابود ہوجاتی ہے۔غرض اس سورۃ میں مکہ والوں کی توجہ کو اس سبب کی طرف پھرایا گیاہے جو اقوام کو خدا تعالیٰ اور اس کے پیغام سے غافل کرکے آخر تباہ کردیتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو مکہ والوں کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے ذریعہ ایک بہت بڑی عزت حاصل ہوئی۔ایک زمانہ میں دو رسول ان کی طرف مبعوث ہوئے جنہوںنے اللہ تعالیٰ کا پیغام ان کے کانوں تک پہنچایا۔اس کے نتیجہ میں ان میں بیداری بھی پیدا ہوئی اور ان میں زندگی کی روح بھی حرکت کرنے لگی۔مکہ ایک بنجر اور غیر آباد علاقہ تھا۔عاد اور ثمود کی قومیں اس علاقہ پر مدتوں سے حکومت کرتی چلی آئی تھیںمگر اللہ تعالیٰ کے انبیاء پر ایمان لانے کے نتیجہ میں ان کے اندر ایسا تغیر پیدا ہوا کہ حکومت ان کے قبضہ میں آگئی اور تمام عرب نے ان کے سامنے اپنی گردنیںخم کر دیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ دنیا میں جب کسی قوم کو روحانی رنگ میں عزت ملتی ہے تو خدا تعالیٰ کے نبی اور اس کے مامور کی بعثت کے نتیجہ میں ہی ملتی ہے مگر اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ دنیوی عزت بھی اس قوم کو حاصل ہو جاتی ہے اور لوگ ان کی ظاہری عظمت کو دیکھ کر واہ وا کرنے لگتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا تعالیٰ کے نبی تھے بڑے صناع یا تاجر نہ تھے وہ اپنی قوم کو خدا دینے کے لئے آئے تھے صنعت یا تجارت یا حکومت میں غلبہ دینے کے لئے نہیں آئے تھے۔مگر دین کے نتیجہ میں دنیوی حکومت بھی اس قوم میں آگئی اور اس کو صرف خدا نہیں ملا بلکہ بادشاہت اور حکومت بھی مل گئی۔پس خدا تعالیٰ کی یہ سنت کہ جب کسی قوم کو ایک نبی کے ذریعہ خدا ملتا ہے تو اس کو دنیا بھی مل جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب سے انسان کے اخلاق درست ہوتے ہیں اور اخلاق درست ہونے سے دنیا کی گردنیں بھی خود بخود جھکنے لگتی ہیں۔آج تک کوئی نبی بھی دنیا میں ایسا نہیں آیاجس نے ایک ذلیل اور مقہور قوم کو اٹھاکر بلند ترین مقام تک نہ پہنچادیا ہو۔موسوی قوم کیا تھی؟ پتھیروں کا کام کرتی تھی مگر موسٰی سے مل کر وہ بادشاہ بن گئے۔