تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 197

ہونا شروع ہوگیا وہ امن جس سے دنیا نا آشنا تھی اس کی قدر و قیمت کا آپ کے ذریعہ لوگوںکو احساس پیدا ہوا۔علم کا چاروں طرف چرچا شروع ہوگیا۔تمدن اپنے ارتقاء کی منازل بڑی سرعت سے طے کرنے لگا۔ذرائع نقل و حرکت میں ایک نیا دور شروع ہوگیا اور دنیا کی آبادی جو پہلے متفرق قبائل کا رنگ رکھتی تھی ایک ملک کا رنگ اختیار کرگئی۔قوموں کا قوموں سے اور ملکوں کا ملکوں سے ایک گہرا تعلق قائم ہوگیا۔سفر کی سہولتیں میسر آگئیں اور لوگ بڑی کثرت کے ساتھ ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگ گئے۔ان وجوہ کا قدرتی طور پر یہ نتیجہ نکلا کہ دنیاکی آبادی بھی پہلے کی نسبت بہت بڑھ گئی اور زمین کو آباد کرنے کے ایسے وسائل نکل آئے جو اس سے پہلے کسی کے واہمہ میں بھی نہیں آئے تھے۔پس بے شک یہ درست بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ کے آخری حصہ میں تشریف لائے ہیں مگر یقینی اور قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پہلے زمانوں کے لوگ اس زمانہ کے لوگوں سے اپنی تعداد میں زیادہ تھے۔یہ تو ہم کہتے ہیں اور یقیناً کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری زمانہ میں آئے مگر یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ظہور سے لے کر قیامت تک جس قدر مومن اور کافر ہوں گے ان کی تعداد پہلی امتوں کے مومنوں اور کافروں سے کم رہے گی۔اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا غالباً یہ بات صحیح نہیں گو قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔میرے نزدیک یہ سب دور کی کوڑیاں ہیں۔اس جگہ مکہ والوں کو اللہ تعالیٰ مخاطب فرماتا ہے اور ان کی دینی و دنیوی پستی اور تباہی کی حقیقت بیان فرماتا ہے اور چونکہ عقلی دلیل ہر جگہ چسپاں ہوسکتی ہے اس لئے اس سے ایک قاعدہ کلیہ کا بھی پتہ چل جاتا ہے اور تسلیم کرناپڑتا ہے کہ جو قانون ان کے لئے تھا وہی اگلی قوموں کے لئے بھی ہوگا۔مثلاً ہم زید کو کہیں کہ تم زہر نہ کھائو ورنہ مرجائو گے۔اب یہ فقرہ تو زید سے کہا گیا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ یہ بات صرف زید سے تعلق رکھتی ہے بلکہ جو شخص بھی زہر کھائے گا مرجائے گا۔پس گو اس فقرہ کا پہلا مخاطب زید ہوگا اور ہماری نصیحت صرف زید کو ہوگی کہ تو زہر نہ کھا۔مگر اس سے یہ قاعدہ کلیہ بھی نکل آئے گا کہ جو شخص زہر کھائے گا مرجائے گا۔میرے نزدیک ان آیات میں مقابر کے لفظ سے مٹی والی قبریں مراد نہیں بلکہ تباہی اور بربادی مراد ہے اور اگر ہم یہ معنے کریں تو یہ آیات اپنے مطالب کے لحاظ سے وسیع بھی ہوجاتی ہیں اور کسی غیر معمولی تاویل کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔تم لوگوں کو تکاثر نے اتنا غافل بنادیا ہے کہ جن چیزوں سے تکاثر نے تمہیں روکا تھا ان کی طرف تم لوٹ نہیں سکے یہاں تک کہ تم تباہی کے سرے پر پہنچ گئے اور تمہاری بربادی کا وقت آگیا۔پس زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ سے مقبرئہ جسمانی مراد نہیں بلکہ یہ وہ مقبرہ ہے جس کامحاورئہ زبان میںذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ فلاں قوم تومرگئی یا فلاں شخص کے متعلق تم کیا پوچھتے ہو وہ تو مرگیا یعنی اس کے اندر بیداری کی روح