تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 196
قبروں میں داخل ہونا تو ایک ایسی بات ہے جس کا کفار بھی انکار نہیں کرتے تھے اور وہ تسلیم کرتے تھے کہ ہر انسان ایک دن لازماً مرجائے گا۔پس اس قاعدہ کا اطلاق یہاں درست نہیں۔یہ قاعدہ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں مخاطب تو انکار کررہا ہو اور متکلم کواپنے کلام پر زور دینا مقصود ہو۔بعض اورلوگوں نے یہ معنے کئے ہیں کہ چونکہ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ ہمیشہ دنیا میں قومیں تکاثر کرتی آئی ہیں اور چونکہ دنیا میں زندوں کی نسبت مردے زیادہ ہیں اس لئے کثرت کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے یہاں ماضی کا صیغہ استعمال کردیا ہے۔وہ اپنی اس توجیہ کی بنیاد اس امر پر رکھتے ہیں کہ حدیثوں سے پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آپ سے پہلے دنیا میں بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جن کا مجموعی زمانہ کئی ہزار سال کا ہے۔پس چونکہ ماضی کی کثرت ہے اس لئے کثرت کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے یہاں ماضی کا صیغہ استعمال کردیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عربی زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ جس جماعت کوکثرت اور غلبہ حاصل ہو اسی کے مطابق صیغے استعمال کرلئے جاتے ہیں۔مثلاً قرآن کریم میں کئی جگہ نماز روزہ کے احکام میں صرف مردوں کا ذکر کیا گیا ہے عورتوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ عورتیں اس میں شامل ہیں۔اسی طرح ان لوگوں کا استدلال یہ ہے کہ چونکہ پہلے لوگ کثیر تھے اور بعد میں آنے والے قلیل ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔یہ معنے پہلے معنوں سے زیادہ معقول ہیں مگر یہ کہنا کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخرمیں تشریف لائے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ بعد میں آنے والے لوگ پہلوں کی نسبت کم ہوں یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ پہلے ساری دنیا کی بھی اتنی آبادی نہیں تھی جتنی آج صرف ہندوستان کی ہے۔پہلے زمانہ میں نہ لوگوں کو امن کی قدر و قیمت معلوم تھی نہ آپس میںمیل جول کی سہولتیں انہیں میسر تھیں، نہ علوم کی کثرت تھی، نہ ایجادات کا دور دورہ تھا، نہ زندگی کو بہتر بنانے کے اصول لوگوں کو معلوم تھے، نہ آبادی کو ترقی دینے کے ذرائع کی انہیں کچھ خبر تھی۔اس وقت تمدن بھی ابتدائی حالت میں تھا، اس وقت سیاست بھی ابتدائی حالت میں تھی، اس وقت علم بھی ابتدائی حالت میں تھا اور اس وقت دنیا کا آپس میں وہ رابطہ و اتحاد نہیں تھا جو موجودہ زمانہ میں نہایت وسیع طور پر پایا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو اللہ تعالیٰ نے چونکہ تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ قرار دیا تھا اس لئے آپ کی بعثت کے ساتھ ہی دنیا کی حالت میں ایک غیر معمولی تغیر پیدا