تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 195

بنوحارثہ اور بنو الحرث یا بنو عبدمناف اور بنو سہیم کے جھگڑوں کے قصے بیان کرنے کے لئے نہیں آیا۔ہاں مثال کے طور پر اگر کوئی جھگڑا ہو تو اس پر اس آیت کو چسپاں کیا جاسکتا ہے۔مثلاً ہم کبھی بازار جائیں اور دیکھیں کہ ایک دوکاندار دوسرے سے لڑ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میرے مقابلہ میں تیری حیثیت ہی کیا ہے۔میرے پاس بھینس ہے، میرے پاس گھوڑا ہے، میرے پاس مکان ہے، میرے پاس زمین ہے اور تمہارے پاس کچھ بھی نہیں۔اس وقت ہم کہہ سکتے ہیں کہ تم یہ کیالغو حرکت کررہے ہو تمہیں تو تکاثر نے اعلیٰ اخلاق سے بالکل محروم کردیا ہے۔ہمارے اس قول کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ یہ سورۃ صرف تمہارے لئے نازل ہوئی ہے بلکہ اس کا مطلب صرف اتنا ہوگا کہ اس سورۃ کا مضمون تمہارے اس جھگڑے پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔پس اس سورۃ کا جو شان نزول بتایا جاتا ہے اس کے معنے صرف اتنے ہیں کہ بعض واقعات صحابہؓ کے زمانہ میں بھی ایسے ہوئے جن پر یہ سورۃ چسپاں ہوتی ہے ورنہ یہ سورۃ اپنے اندر بہت وسیع مطالب رکھتی ہے۔اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ میں ماضی کے صیغے استعمال کرنے کی وجہ چونکہ اس سورۃ میں ماضی کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اس لئے بعض لوگوں کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سورۃ میں ماضی کے الفاظ کس حکمت کے ماتحت استعمال کئے گئے ہیں اور چونکہ انہوں نے زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ کے معنے انسان کے مرجانے اور اس کے قبر میں داخل ہوجانے کے کئے ہیں۔اس لئے بعض نے کہا ہے کہ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ تحقّقِ وقوع کے لئے آیا ہے یعنی تکاثر نے تم کو غافل کردیا یہاں تک کہ تم مرگئے۔یعنی چونکہ یہ بات ضرور ہوکر رہنی ہے اور موت ایسی چیز ہے جس سے کسی انسان کو مفر نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں ماضی کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔یہ بتانے کے لئے کہ بات ایسی قطعی اور یقینی ہے کہ ہم اس کے مضارع کا صیغہ استعمال کرنے کی بجائے ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔مگر میرے نزدیک یہ بات صحیح نہیں۔اس لئے کہ تحقّقِ وقوع کا مسئلہ وہاں چسپاں ہوتا ہے جہاں وقوعہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو مثلاً قرآن کریم نے یہ پیشگوئی کی کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیتیں گے اور مکہ کو ایک دن فتح کرلیں گے۔اب مکہ کا فتح ہونا کفار کی نظروں سے بالکل پوشیدہ امر تھا اور وہ اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے صحابہ سمیت مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوں گے اور کفار ان کے زیر نگین آجائیں گے۔پس چونکہ یہ بات کفار کی نگاہ میں بالکل غیر ممکن تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر زور دینے کی بجائے ماضی کا صیغہ استعمال کردیا اور بتادیا کہ تم تو اس پیشگوئی کو نہیں مانتے لیکن ہم اسے ایسا قطعی اور یقینی سمجھتے ہیں جیسے ماضی یقینی ہوتی ہے اور جس کے وقوع میں کسی کوکوئی شبہ نہیں ہوتا۔لیکن زیارتِ قبور یا