تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 193
تمہیں تکاثر نے کس چیز سے غافل کر دیا ہے تاکہ تمام وہ چیزیں جن سے تکاثر نے غافل کر دیا یا جن سے تکاثر غافل کر سکتا ہے وہ ایک ایک کر کے انسان کے ذہن میں آجائیں اور وہ اس مضمون سے زیادہ سے زیادہ سبق حاصل کرے۔غرض اس ابہام میں یہی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ جتنی باتوں سے تکاثر انسان کو غافل کر دیا کرتا ہے وہ سب کی سب باتیں اس آیت میں شامل ہیں اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم کسی ایک نیکی سے نہیں بلکہ سب کی سب نیکیوں سے اس روح مفاخرت کی وجہ سے محروم ہو گئے ہو۔پس عَنْ کے چھوڑ دینے کی وجہ سے اس مضمون کو نہایت وسیع اور شاندار بنا دیا گیا ہے۔(۲) دوسرا صلہ فِیْ کا چھوڑا گیا ہے یعنی یہ نہیں فرمایا کہ تم کس چیز میں اپنی بڑائی بیان کرتے ہو اور بڑائی حاصل کرنا چاہتے ہو۔اس ابہام میں بھی یہ فائدہ مدّ ِنظر رکھا گیا ہے کہ کفار جہاں تک دنیوی طاقت کا سوال ہے ہربات میں مسلمانوں سے زیادہ تھے۔وہ اپنی تعداد پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنی تجارت پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے وسیع تعلقات پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے جمع کردہ اموال کی کثرت پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے نوجوانوں کی جنگی مہارت پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنی اعلیٰ سواریوں پر بھی فخرکرتے تھے۔اپنے مسحور کر دینے والے شعراء پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے گرمادینے والے خطیبوں پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے عقل و دانش میں مشہور بوڑھوں پر بھی فخر کرتے تھے۔قومی جذبات سے معمور سینوں والی مائوں پر بھی فخر کرتے تھے۔قوم کی عزت پر مر مٹنے والے سپاہیوں پر بھی فخر کرتے تھے اور اسی طرح اور بہت سے امور میں مسلمانوںکو اپنے سے ادنیٰ اور کمزور قرار دے کر ان کی تحقیر کرتے تھے اور ان کے دعاوی کو غیرمعقول اور بے ثبوت و دلیل دعاوی قرار دیتے تھے۔قرآن کریم جہاں تک ان کے ہر امر میں زیادہ ہونے کا سوال ہے ان کے دعویٰ کو ردّ نہیں کرتا۔وہ مانتا ہے کہ عدد میں، مال میں، سامانوں میں، جتھا بندی میں تم زیادہ ہو۔لیکن صرف اتنا کہتا ہے کہ ان چیزوں کی زیادتی نے تم کو اخلاق فاضلہ اور دین سے محروم کردیا ہے اور انسان مال اور دولت سے نہیں جیتا کرتا بلکہ اخلاق و انکسار سے جیتا کرتا ہے۔پس یہ زیادتیاں اور بڑھوتیاں تمہارے لئے مفید نہیں بلکہ مضر ہیں کیونکہ سامان کم ہوتے تو تم اپنی ترقی کے لئے کوشش کرتے۔اب سامانوں کی فراوانی نے تم کو سست اور غافل بنادیا ہے اور ان اخلاق کے کمانے سے محروم کردیا ہے جن کو کمائے بغیر انسان کو پائدار دولت حاصل نہیں ہوا کرتی۔اس لئے یہ دولت تم کو نجات نہ دلائے گی بلکہ تمہاری تباہی کا موجب ہوگی۔گرتے ہوئے سوار ایک بچے سے بھی کمزور ہوتے ہیں اور بوسیدہ عمارت ایک جھونپڑی سے بھی بےقیمت ہوتی ہے۔