تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 185
سُوْرَۃُ التَّکَاثُرِ مَکِّیَّۃٌ سورۂ تکاثر یہ مکی سورۃ ہے وَھِیَ ثَـمَانِیَ اٰیَاتٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَفِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا آٹھ آیات ہیں اور ایک رکوع ہے سورۃ تکاثر مکی ہے یہ سورۃ جمہور کے نزدیک مکی ہے مگر امام بخا ر ی نے اس سے اختلاف کیا ہے وہ اسے مدنی قرار دیتے ہیں حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے(فتح البیان سورۃ التکاثر ابتدائیۃ )۔مستشرقین بھی اسے ابتدائی مکی سورتوں میں سے قرار دیتے ہیں۔میرے نزدیک یہ سورۃ مکی ہی ہے کیونکہ اس میں سابق مکی سورتوں کی طرح کی پیشگوئیاں ہیں۔صرف مال کا ذکر ہونے کی وجہ سے اسے مدنی نہیں کہہ سکتے کیونکہ مکہ والوں کے پاس بھی اپنی ملکی دولت کے مطابق مال تھا اور اس میں کافروں کے مال ہی کا ذکر ہے۔سورۃ تکاثر کا تعلق پہلی سورتوں سے اس سورۃ کا تعلق پہلی سورتوں سے یہ ہے کہ پہلی سورتوں میں تمام جماعت ہائے کفر کا ذکر کر کے بتایا گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اپنے زمانہ میں بھی اصلاح فرمائیں گے اور آئندہ زمانہ میں بھی۔خصوصاً پچھلی دو سورتوں میں ان عذابوں کا ذکر تھا جو کفر کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یا آپ کے بعد کے زمانہ میں آنے والے تھے۔اب اس سورۃ میں کفر اور خدا تعالیٰ سے دوری کی وجہ بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ کیوں انسان میں کفر پیدا ہوتا ہے۔کیوں اسے خدا تعالیٰ سے بُعد ہوتا ہے اور کیوں لوگ باوجود نبیوں کے ذریعہ حق پا لینے کے آخر دین سے دور چلے جاتے ہیں۔سورۃ تکاثر ہزار آیات کے برابر اس سورۃ کے متعلق حاکم اور بیہقی نے ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَلَا یَسْتَطِیْعُ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّقْرَاَ اَلْفَ اٰیَۃٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ قَالُوْا وَ مَنْ یَّسْتَطِیْعُ اَنْ یَّقْرَاَ اَلْفَ اٰیَۃٍ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ قَالَ اَمَا یَسْتَطِیْعُ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّقْرَاَ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ (فتح البیان سورۃ التکاثر ابتدائیۃ) یعنی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کیا