تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 182

اُمُّ الدّماغ نے دماغ کو چاروں طرف سے ڈھانپا ہوا ہوتا ہے اسی طرح ہلاکت ان کو چاروں طرف سے ڈھانپ لے گی، نجات کا کوئی راستہ ان کے لئے باقی نہیں رہے گا۔اس آیت کے یہ بھی معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عذاب آتے ہیں ان کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ بندوں کی اصلاح ہو اور وہ اپنے گناہوں سے باز آجائیں۔محض انتقام لینا اللہ تعالیٰ کے مدّ ِنظر نہیں ہوتا۔اسی حقیقت کو اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ میںبیان کیاگیا ہے یعنی ہاویہ ان کی ماں ہوگی۔جس طرح بچہ ماں کے پیٹ میں جاتا اور ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ(الزّمر: ۷) سے حصہ لیتا ہے اور آخر ترقی پاکر رحم مادر سے باہر آتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی بندوںپر کوئی عذاب نازل ہوتا ہے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگوںکے گند دور ہوجائیں اور وہ عذاب کی ظلمت میں اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں تاکہ آخر میں انہیں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوجائے اور وہ اس کے مقرب بندوں میں شامل ہوجائیں۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِيَهْؕ۰۰۱۱نَارٌ حَامِيَةٌؒ۰۰۱۲ اور (اے مخاطب) تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ (ہاویہ) کیا ہے یہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے۔حلّ لُغات۔حَامِیَۃٌ: حَـمَی سے ہے اور حَـمَی ا لشَّیْءَ مِنَ ا لنَّاسِ (یَـحْمِیْہِ حَـمْیًا وَ حِـمْیَۃً وَحِـمَایَۃً) کے معنے ہوتے ہیں مَنَعَہٗ عَنْـہُمْ اس کو ان سے روکا اور حَـمِیَ مِنَ ا لشَّیْءِ ( یَـحْمٰی حَـمِیَّۃً)کے معنے ہوتے ہیںاَنِفَ اَنْ یَّفْعَلَہٗ اس نے تکبر کا اظہار کیا۔اور حَـمِیَ الشَّمْسُ وَالنَّارُ حَـمْیًا(وَحُـمِیًّا وَ حُـمُوًّا) کے معنے ہوتے ہیں اِشْتَدَّ حَرُّھَا اس کی گرمی تیز ہو گئی۔اور حَـمِیَ عَلَیْہِ کے معنے ہوتے ہیں غَضِبَ وہ اس پر غضبناک ہوا (اقرب) پس نَارٌ حَامِيَةٌ کے یہ معنے ہو ئے کہ وہ ایک ایسی آگ ہوگی جس کی گرمی بے انتہا ہوگی۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِيَهْ۔وہ تباہی اور بربادی جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے تجھے کیا پتہ کہ وہ کیا ہوگی یعنی وہ اس قدر زیادہ ہوگی کہ الفاظ سے تم اس کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے یہ الفاظ با لکل ایٹم بم پر چسپاں ہوتے ہیںکیونکہ اس بم کے گرنے سے اتنی شدید گرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ میلوں میل تک لوگ جھلس کر مر جاتے ہیں۔یہاںتک کہ اس بم کے اثرات کے نتیجہ میں انسانی جسم کی بناوٹ تک بدل جاتی ہے۔جا پانیوں نے اعلان کیا ہے کہ ایٹم بم کے حادثہ سے جو لوگ مجروح ہوئے تھے ہم نے ان کا بہت علاج کیامگر وہ اچھے ہونے میں ہی نہیں