تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 183
آتے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جسم کے خلیے تک بدل گئے ہیں۔اس وقت ایٹم بم کے اثر سے دو لاکھ آدمی جاپان میں بیمار ہیں جو باوجود ہر قسم کے علاج کے اچھے نہیں ہوئے۔اسی طرح ایک سائنسدان نے اپنے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ چونکہ ان کے جسم کے خلیے با لکل بدل گئے ہیںاس لئے آئندہ ان کی نسل سے جو لوگ پیدا ہوں گے ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کسی کی آنکھیں نہ ہوں کسی کے کان نہ ہوںیا کسی کی دس دس آنکھیں ہوں اور پانچ پانچ سر یا چھ چھ بازو ہوںاور چار چار ٹانگیں، یا ہاتھ ہوں تو پائوں نہ ہوں یا پائوں ہوں تو ہاتھ نہ ہوں یا انسانی نسل کی بجائے کنکھجوروں کی طرح ان کے ہاں اولاد پیدا ہونے لگ جائے کیونکہ ان کے جسم کے خلیے با لکل ٹوٹ چکے ہیں اور اب ان تمام باتوں کا امکان ہے یہ تو ایک سائنسدان کا خیال ہے لیکن اتنا واقعہ خود جاپانیوں نے تسلیم کیا ہے کہ جو لوگ اس حادثہ سے مجروح ہوئے تھے ہم سمجھتے تھے کہ وہ بیمار ہیں علاج سے تندرست ہو جائیں گے لیکن ہزاروں دوائوں کے باوجود ان کے جسم پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ایسا تغیر ان میں واقعہ ہو چکا ہے کہ خواہ انہیں کوئی دوائی کھلائو کچھ فائدہ ہی نہیں ہوتا۔اسی طرح نَارٌ حَامِيَةٌ کے ایک یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ آگ ان پر غضب کرنے والی ہوگی۔نار خود اپنی ذات میںجلانے والی چیز ہے لیکن نار کے ساتھ جب حَامِيَةٌ کا لفظ ملا دیاجائے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ آگ اپنی انتہائی شدت کو پہنچ جائے گی۔پس نَارٌ حَامِيَةٌ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم اسے معمولی آگ نہ سمجھووہ ایسی خطرناک ہوگی کہ یوں معلوم ہوگا وہ انتہائی غضب کی حالت میں لوگوں پر حملہ کر رہی ہے۔قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ کے متعلق فرماتا ہے کہ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ (الملک:۹)وہ ایسی شدید ہوگی کہ قریب ہوگا غصہ سے پھٹ جائے۔یہی کیفیت نَارٌ حَامِيَةٌ میں بیان کی گئی ہے کہ وہ آگ اس دنیا کی آگ کی گرمی سے سینکڑوں ہزاروں گنے زیادہ گرم ہوگی میں نے سینکڑوں ہزاروں گنے کے الفاظ استعمال کئے ہیں حالانکہ حدیث میں ستّر کا لفظ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان میں سات اور ستّر مبالغہ کے لئے استعمال ہو تے ہیں۔سات یا ستّر سے سات یا ستّر کے معنے مراد نہیں ہوتے بلکہ بے انتہا زیادہ کے معنے مراد ہوتے ہیں اسی وجہ سے جب بہت زیادتی کی طر ف اشارہ کرناہو تو اکثر سات یا ستّر کا لفظ آتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ زیادتی صرف سات یا ستّر گنے نہیں ہوتی پس اصل میں صرف بہت زیادہ کا مفہوم بتانا مقصود ہوتا ہے۔غرض اَلْقَارِعَةُ وہ عذاب ہے جو موجودہ زمانہ میں ایٹم بم کی صورت میںظاہر ہوا۔اور جس کے ہولناک نتائج