تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 181

محدود رہتا ہے اور ایک تنزّل وہ ہوتا ہے جو بیج کے طور پر آئندہ نسل میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ میں اسی دوسرے تنزّل کی طرف اشارہ کیا گیاہے کہ جس طرح ماں بچے پیدا کرتی ہے اسی طرح وہ قوم جس کی میزان ہلکی ہوگی اس کے گرنے کی حالت ترقی کرتی چلی جائے گی یعنی جو قومیں اس عذاب کے نیچے آئیں گی ان کاتنزّل شروع ہوجائے گا اور پھر وہ تنزّل بڑھتا چلا جائے گا۔اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ اس کی ماں اس پر روئے گی یعنی وہ قوم بالکل تباہ و برباد ہوجائے گی۔عربی زبان میں یہ محاورہ ہے کہ کہتے ہیں ثَکُلَتْکَ اُمُّکَ تیری ماں تجھ کو روئے۔چونکہ هَاوِيَةٌ کے ایک معنے ثَاکِلَۃٌ کے بھی ہیں پس اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ کے معنے ہوئے اس دن اس کی ماں اس پر روئے گی یعنی وہ بالکل تباہ ہوجائے گی۔یوں تو رونے والے اور بھی ہوسکتے ہیں بیٹے بھی ہوسکتے ہیں، بیٹیاں بھی ہوسکتی ہیں، بیوی بھی ہوسکتی ہے لیکن محاورہ میں صرف ثَکُلَتْکَ اُمُّکَ کہا جاتاہے جس میں حکمت یہ ہے کہ ایک موت وہ ہوتی ہے جو طبعی عمر کے بعد آتی ہے اور ایک موت وہ ہوتی ہے جو طبعی عمر سے پہلے آجاتی ہے۔جب کوئی شخص طبعی عمر پاکروفات پاتا ہے تو اس کے ماں باپ پہلے مرچکے ہوتے ہیں اس لئے وہ اس پر نہیں رو سکتے۔اس پر اس کے بیوی بچے روتے ہیں۔لیکن جب کوئی غیرطبعی وفات پائے تو ما ں باپ زندہ ہوتے ہیں اور انہیں اس پر رونا پڑتا ہے۔پس اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ کے معنے یہ ہیں کہ وہ لوگ غیرطبعی موت مریں گے، بے وقت کی موت ان پر آئے گی اور وہ تباہ ہوجائیں گے۔چنانچہ دیکھ لو جاپان کی موت کتنی غیرطبعی ہے۔جرمنی کی موت کتنی غیر طبعی ہے۔قوموں کی زندگی دو دو چار چار سو سال تک ہوتی ہے مگر ان کی مثال تو بالکل ویسی ہی ہوئی جیسے کسی شاعر نے کہا ہے کہ ؎ پھول تو دو دن بہارِ جانفزا دکھلا گئے حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھاگئے یہ ابھی اپنی ترقی کے خواب ہی دیکھ رہے تھے کہ کچلے گئے۔پس فرمایا ان کی ماں ان کو روئے وہ کیسی غیرطبعی موت مرے ہیں۔پھر میں نے بتایا تھا کہ اُمُّ الدّماغ اور اُمُّ الرَّأس اس جلد کو بھی کہا جاتا ہے جس نے دماغ کو گھیرا ہوا ہے۔اس لحاظ سے اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ کے یہ معنے ہوں گے کہ ہاویہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی۔ترقی کا انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آئے گا۔ہلاکت ہی ہلاکت او ربربادی ہی بربادی ان پر چاروں طرف سے مسلّط ہوگی۔جس طرح