تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 176
خطرناک ہتھیاروں کے مقابلہ میں تدبیراور کوشش بے کار جاتی ہے اور لیڈروں کی عظمت اور ضرورت مٹ جاتی ہے۔فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗۙ۰۰۷فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍؕ۰۰۸ اس وقت جس کے (اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے وہ تو (بہترین اور) پسندیدہ حالت میں ہوگا۔وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗۙ۰۰۹فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰۱۰ اور جس کے (اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانا تو ہاویہ (ہی ) ہوگا۔حلّ لُغات۔مَوَازِیْن: مِیْزَانٌ کی جمع ہے اور میزان اس ترازو کو کہتے ہیں جس سے چیزیں تولی جاتی ہیں۔اسی طرح میزان کے ایک معنے اَلْعَدْ لُ کے ہیں یعنی جزاء اور مثل کے اور میزان مقدار کو بھی کہا جاتا ہے (اقرب)۔اَلْاُمُّ: اَلْوَالِدَۃُ۔اُمٌّ کے معنے ماں کے ہیں اُمُّ الشَّیْءِ اَصْلُہٗ یعنی اُمُّ الشَّیْءِ سے مراد کسی چیز کی اصل یعنی جڑ ہوتی ہے اُمُّ الدَّمَاغِ وَاُمُّ الرَّأْسِ: اَلْـجَلْدَۃُ الَّتِیْ تَـجْمَعُ الدِّمَاغَ اور اُمُّ الدَّمَاغِ اور اُمُّ الرَّأْسِاس جھلی کو کہتے ہیں جو دماغ کو گھیرے ہوئے ہے اُمُّ اَرْبَعٍ وَّ اَرْبَعِیْنَ دُوَیْبَۃٌ سَامَّۃٌ اور اُمِّ اَرْبع ایک زہریلا کیڑا ہوتا ہے جسے ہماری زبان میں ہزار پایا کہتے ہیں۔(اقرب) ھَاوِیَۃٌ: ھَوٰی سے ہے اور ھَوَی الرَّجُلُ کے معنے ہوتے ہیں مَاتَ مرگیا۔پس ھَاوِیَۃٌ کے معنے ہوئے مرنے والی۔اور ھَوَی الشَّیْءُ کے معنے ہوتے ہیں سَقَطَ مِنْ عُلُوٍّ اِلٰی اَسْفَلَ۔اوپر سے نیچے کی طرف گرگیا۔اس لحاظ سے اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ کے یہ معنے ہوںگے کہ اس کی ماں یا اصل (جیسا کہ اُمُّ الشَّیْءِ کے معنے اَصْلُہٗ کے بیان کئے جاچکے ہیں ) هَاوِيَةٌ ہوگی یعنی نیچے کی طرف جانے والی ہوگی۔بالفاظ دیگر یوں کہہ لوکہ تنزّل کی حالت اس کی ماں ہوگی یعنی تنزّل کا بیج اس کے اندر پایا جائے گا اور وہ بیج اسے نیچے ہی نیچے گراتا جائے گا۔هَاوِيَةٌ جہنم کا نام بھی ہے (اقرب) اور اَلْھَاوِیَۃُ کے معنے ہیں اَلثَّاکِلَۃُ رونے والی (اقرب)۔تفسیر۔قرآن کریم میں مِیْزَان کا لفظ بھی آتا ہے اور مَوَازِیْن کا بھی۔خدا تعالیٰ کی طرف جب اس کی نسبت ہوئی ہے تو میزان کا لفظ آیا ہے لیکن بندوں کے لئے جب استعمال ہوا ہے تو موازین کا لفظ استعمال ہواہے۔دنیا میں تو کئی دوسری میزانیں بھی ہیں۔ہزاروں ہزار آدمی تول رہا ہے اور ہزاروں ہزار تلوا رہاہے لیکن قیامت کے دن جب انسانی اعمال کے نتائج ظاہر ہونے لگیں گے اس وقت تلوانے والے تو بہت ہوں گے لیکن