تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 174
کہ پہاڑ اس دن اس پشم کی مانند ہوجائیں گے جو دھنکی ہوئی ہو۔تفسیر۔اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے عذاب کی کیفیت بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ عذاب ایسا شدید ہوگا کہ ایک طرف انسانوں پر اس کایہ اثر ہوگا کہ اگر وہ لشکر کی صورت میں ہوں گے تو پراگندہ ہوجائیں گے اور سمجھیں گے کہ اجتماع کی صورت ہمارے لئے خطرناک ہے اور اگر وہ شہروں میں بستے ہوں گے تو اس عذاب کے ہیبت ناک اثرات کی وجہ سے وہ شہروں میں نہیں رہیں گے بلکہ گھروں سے نکل کر جنگلوں میں بھاگ جائیں گے اور سمجھیں گے کہ ہمارے لئے نجات کی اب کوئی صورت نہیں سوائے اس کے کہ ہم منتشر اور پراگندہ ہوجائیں۔دوسری طرف مصیبت کے لحاظ سے یہ اتنی خطرناک ہوگی کہ لوگ اندھے ہوجائیں گے جس طرح اندھیرے میں پروانے بھاگتے ہیں تو ان کو کوئی رستہ نہیں ملتا۔وہ ادھر ادھر بھٹکتے پھرتے ہیں اسی طرح ان کو کوئی رستہ نظر نہیں آئے گا اور وہ مارے مارے پھریں گے اور یا پھر یہ حملہ اتنی شدت کا ہوگاکہ انسانوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے۔گویا اوّل تو پراگندہ ہوجائیں گے لیکن اگر وہ پراگندہ نہ ہوئے اور لشکر کی صورت میں کسی مقام پرجمع ہوئے یا شہروں کو چھوڑ کر جنگلوں میں نہ بھاگے تو یہ عذاب ایسا شدید ہوگا کہ ان کی بوٹیاں تک ہوا میں اڑ جائیں گی ا ور یوں معلوم ہوگا کہ پتنگے ادھر ادھر اڑ رہے ہیں۔پھر کچھ لوگ پہاڑوں کی طرف بھاگیں گے کہ شاید ہمیں وہاں امن مل سکے۔مگر یہ عذاب اتنا خطرناک ہوگا کہ پہاڑوں پر گرے گا تو وہ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑ جائیںگے۔اَلْقَارِعَةُ سے مراد ایٹم بم میں پہلے خیال کیا کرتا تھا کہ ان آیات میں توپ خانوں اور موجودہ زمانہ کی ان ہلاکت آفرین ایجادوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن سے عام طور پر لڑائیوں میں کام لیا جاتا ہے مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ اَلْقَارِعَةُ سے ایٹم بم مراد ہے اور اس عذاب کی ساری کیفیت ایسی ہے جو ایٹم بم سے پیدا شدہ تباہی پر پوری طرح چسپاں ہوتی ہے۔یہ بم ایسا خطرناک اور تباہ کن ہے کہ اس سے بچنے کی سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیںکہ لوگ منتشر اور پراگندہ ہو جائیں۔یہ بم جس جگہ گرتا ہے سات سات میل تک کا تمام علاقہ خس و خاشاک کی مانندجلا کر راکھ کر دیتا ہے۔بلکہ ایٹم بم کے متعلق اب جو مزید تحقیق ہوئی ہے وہ بتاتی ہے کہ سات میل کا بھی سوال نہیں چالیس چالیس میل تک یہ ہر چیز کو اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ہیروشیما پر اٹومک بم گرایا گیا توبعد میں جاپانی ریڈیو نے بیان کیا کہ اس بم سے ایسی خطرناک تباہی واقعہ ہوئی ہے کہ انسانوںکے گوشت کے لوتھڑے میلوں میل تک پھیلے ہوئے پائے گئے ہیں۔یہ بالکل وہی حالت ہے جس کا قرآن کریم نے ان آیات میں ذکر فرمایا ہے کہ انسانوں کا وجود تک باقی نہیں رہے گا۔ہڈی کیا اور بوٹی کیا سب باریک ذرات کی طرح ہو جائیں گے اور پتنگوں کی مانند ہوا میں اڑتے