تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 173

کے بعد زمین پر جو پپڑیاں جم جاتی ہیں ان کو بھی فَرَاشٌ کہا جاتا ہے۔دوسری طرف یہ بتایا جاچکا ہے کہ مبثوث کے ایک معنے غبار اڑانے کے بھی ہیں کیونکہ جب بَثَّ الْغُبَارَ کہا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں ھَیَّجَہٗ غبار کو زمین سے اٹھایا۔ان معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ کے یہ معنے ہوں گے کہ جس طرح پانی گرتا ہے تو بعد میں پپڑیاں جم جاتی ہیں مگر پپڑی کوئی مضبوط چیز نہیں ہوتی بظاہر وہ سخت نظر آتی ہے مگر چونکہ اس کا حجم بہت معمولی ہوتا ہے اس لئے جب اس پر گھوڑا دوڑایا جائے تو وہ ٹوٹ پھوٹ کر غبار کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔اسی طرح جب وہ قارعہ آئے گی تو لوگ اس طرح اڑ جائیں گے جس طرح غبار اڑجاتا ہے۔اسی طرح يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ کے ایک یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ جس طرح پروانہ ایک ہلکاپھلکا سا وجود ہے اسی طرح وہ اس چوٹ سے اس طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوکر ہوا میں اڑجائیں گے کہ یوں معلوم ہوگا وہ پتنگے ہیں جو ہوا میں اڑ رہے ہیں۔یعنی وہ قارعہ ایسی ہوگی کہ جب گرے گی چلتے پھرتے خوبصورت انسان ریزہ ریزہ ہوکر ہوا میں اس طرح اڑ جائیں گے کہ پتہ بھی نہیں لگے گا کہ وہ کہاں گئے۔ان کی شکل انسانوں کی سی نہیں رہے گی۔یوں معلوم ہوگا کہ وہ چھوٹے چھوٹے پروانے ہیں جو ہوا میں اڑ رہے ہیں۔وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ۰۰۶ اور پہاڑ اس پشم کی مانند ہوجائیں گے جو دھنکی ہوئی ہوتی ہے۔حلّ لُغات۔اَلْعِھْنُ۔اَلْعِھْنُ: اَلصُّوْفُ اَوِالْمَصْبُوْغُ اَلْوَانًا۔عِھْنٌ کے معنے صوف کے بھی ہوتے ہیں اور عِھْنٌکے معنے کئی رنگوں میں رنگی ہوئی اون کے بھی کئے جاتے ہیں (اقرب)۔مَنْفُوْشٌ دھنکی ہوئی روئی یا پراگندہ کی ہوئی اون کو کہا جاتاہے۔چونکہ اون جڑی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک بننے کے کام نہیں آسکتی جب تک اس کے بال بال الگ نہ کئے جائیں۔اس لئے عورتوں کا طریق ہے کہ وہ بیٹھ جاتی ہیں اور انگلیوں سے اون کے بالوں کو نوچ نوچ کر الگ کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ بالکل ہلکی پھلکی ہوجاتی ہے۔چنانچہ لسان العرب میں لکھا ہے مَدَّہٗ حَتّٰی یَتَجَوَّفَ اون کو کھینچ کھینچ کر اس میں جوف پید اکردیاگیا اور اقرب میں لکھاہے نَفَشَ الْقُطْنَ وَالصُّوْفَ نَفْشًا: شَعَّثَہٗ بِالْاَصَابِـعِ حَتّٰی یَنْتَشِـرَ۔(اقرب) اس نے انگلیوں کے ساتھ روئی یا اون کو پراگندہ کیا یہاں تک کہ وہ پھیل گئی۔پس وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ کے معنے یہ ہوئے