تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 172

کہ ائمہ لغت جو تفسیر کی طرف مائل ہیں ان کے نزدیک قَرْعٌ کا لفظ شدید آواز پر بھی دلالت کرتا ہے(فتح البیان سورۃ القارعۃ ابتدائیۃ) اور میں نے ان معنوں پر زیادہ زور دیا تھا کیونکہ یہ معنے اگلی آیات کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دن انسان ان ٹڈیوں کی طرح ہوجائیں گے جو پراگندہ کردی جاتی ہیں اور ٹڈیوں کو ڈرانے اور منتشر کرنے کے لئے سب سے بڑی چیز جس سے کام لیا جاتا ہے وہ آواز ہی ہے۔جب ٹڈی آتی ہے تو لوگ خالی پیپے لے کر انہیں ڈھم ڈھم بجانا شروع کردیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ٹڈی آواز سے ہی منتشر کی جاسکتی ہے کسی اور چیز سے نہیں۔کہا جاتا ہے کہ ٹڈی کی نظر تیز نہیں ہوتی لیکن اس کے کان بہت تیز ہوتے ہیں اس لئے ٹڈی کو ڈرانے کے لئے شدید آواز پیدا کی جاتی ہے۔جب تیز آواز پیدا ہو تو ٹڈی بے تحاشا اڑنے لگتی ہے۔شہروں اور دیہات دونوں میں یہ دستور ہے کہ جب ٹڈی کھیتوں پر آکر گرتی اور فصلیں تباہ کرنے لگتی ہے تو بےتحاشا ڈھول اور پیپے بجائے جاتے ہیں۔اسی طرح گورنمنٹ کی طرف سے یہ انتظام کیا جاتا ہے کہ جہاں ٹڈی دل گرا ہو اس کے آگے کچھ دور پر بڑی بڑی کھائیاں کھود دی جاتی ہیں اور مزدور اپنے ہاتھ میں ٹوکریاں اور کدالیں لے کر وہاں کھڑے رہتے ہیں۔پھر ڈھول وغیرہ بجا کر ٹڈی کو اڑایا جاتا ہے۔چونکہ چھوٹی ٹڈی زیادہ نہیں اڑ سکتی وہ آواز سے ڈر کر اڑتی اور کھائیوں میں گرجاتی ہے اس وقت ڈھول بجانے بند کردیئے جاتے ہیں اور مزدور جو ٹوکریاں اور کدالیں لئے وہاں کھڑے ہوتے ہیں فوراً ان کے اوپر مٹی ڈال دیتے ہیں۔اسی طرح آج کل بموں کے ذریعہ ٹڈی دل کو منتشر کیا جاتا ہے۔جہاں ٹڈی آئے وہاں بم گرا کر ایک ہیبت ناک آواز پید اکی جاتی ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ٹڈیاں اڑتی ہیں اور سامنے کی خندقوں میں گرجاتی ہیں جہاں انہیں دفن کردیا جاتاہے۔بہرحال ٹڈی جہاں نقصان پہنچانے کے لئے آئی ہوئی ہو وہاں ڈھول کے ذریعہ یا پیپوں کے ذریعہ یا بموں کے ذریعہ آواز پیدا کی جاتی ہے جس سے ڈر کر ٹڈی اپنی جگہ کو چھوڑ دیتی ہے۔پس يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ کے یہ معنے ہوئے کہ اس وقت ایک شدید آواز پید اکی جائے گی جو ایسی ہیبت ناک ہوگی کہ جس طرح ٹڈیاں جب ان کو منتشر کرنے کے لئے ڈھول بجائے جاتے یا پیپے بجائے جاتے یا بم گرائے جاتے ہیں تو وہ ڈر کر اپنے اس حملہ کو جو انہوں نے کھیتوں پر یا درختوں پر یا سبزہ پر کیا ہوتا ہے بھول جاتی ہیں اور اپنے اجتماع کی جگہوںکو چھوڑ دیتی ہیں۔اسی طرح جب وہ قارعہ آئے گی تو لوگ لشکروں کی صورت یا اجتماعی صورت کو چھوڑ کر ادھر ادھر دوڑنے لگیں گے اور سمجھیں گے کہ آج ہمارے لئے بھاگنے کے سوا نجات کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔پھر فَرَاشٌ کے ایک معنے مَا یَبِسَ بَعْدَ الْمَاءِ مِنَ الطِّیْنِ عَلَی الْاَرْضِ کے بھی ہیں۔یعنی بارش برسنے