تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 162

سُوْرَۃُ الْقَارِعَۃُ مَکِّیَّۃٌ سورۃ القارعہ یہ مکی سورۃ ہے وَھِیَ اِحْدٰی عَشْـرَۃَ اٰیَۃً دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَفِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا گیارہ آیات ہیں اور ایک رکوع ہے سورۃ قارعہ مکی ہے سورۃ القارعہ بالاتفاق مکی سورتوں میں سے ہے۔(فتح البیان سورۃ القارعۃ ابتدائیۃ) مستشرقین یورپ بھی اس کے مکی ہونے کے متعلق متفق ہیں۔جرمن مستشرق نولڈکے اور سرمیور نے اسے ابتدائی مکی سورتوں میں سے قرار دیا ہے۔)A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry Vol:iv P:272( ترتیب سورۃ یہ سورۃ بھی پچھلی ترتیب کے لحاظ سے اس طرح پر آتی ہے کہ سورۃ العادیات میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ ترقی اور کامیابی بیان کی گئی تھی جو ابتدائی زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی تھی اور اب القارعہ میں اس آخری دور کے متعلق آپ کے سلسلہ کی ترقی کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ پھر اسلام کے لئے مصیبت اور تکالیف کے دن ہوں گے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں ) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) اَلْقَارِعَةُۙ۰۰۲ مَا الْقَارِعَةُۚ۰۰۳ (دنیاپر) ایک شدید مصیبت (آنے والی ہے) وہ مصیبت کس قدر عظیم ہے۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ۰۰۴ اور (اے مخاطب) تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ (عظیم الشان) مصیبت کیاہے۔حلّ لُغات۔اَلْقَارِعِۃُ۔اَلْقَارِعَۃُ:ـ قَرَعَ سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور قَرَعَ (یَقْرَعُ قَرْعًا)