تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 158

لگے وعظ ونصیحت کے لئے ہمارے ساتھ کچھ آدمی روانہ فرمائیں ہماری قوم ہدایت کی متلاشی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اسلام کے مبلغین سے اپنی معلومات میں اضافہ کرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستّر ۷۰ قاری روانہ کردیئے۔جب وہ گائوں کے قریب پہنچے تو سب نے مل کر ان کو قتل کر دیا اور پھر بڑے خوش ہوئے کہ ہم نے خوب کیا مسلمانوں کے ستّر ۷۰ آدمی ہم نے مار ڈالے۔(بخاری کتاب الجھاد والسیر باب العون بالمدد )حالانکہ اس سے محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا بگڑا۔ان کو خدا تعالیٰ نے اور آدمی دے دئیے مگر بے حیائی تو کفار کی ظاہر ہوئی غرض ظلم، فساد، بخل، تکبر، شرارت، احسان فراموشی، دھوکے بازی ،کمینگی، بے حیائی، اتہام تراشی، غلاموں کو ستانا، عورتوں اور بچوں کو دکھ دینا سب عیوب ان میں پائے جاتے تھے لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ مکہ کے لوگ ایسے برے ہیں۔اہل عرب سمجھتے تھے مکہ والے کتنے اچھے ہیں دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آج تم اچھے سمجھے جاتے ہو لیکن یاد رکھو ایک دن ہم تمہارے سب گند ظاہر کر دیں گے۔چنانچہ اسلام کے آنے پر مکہ والوں کا گند ایسا ظاہر ہوا کہ مجاورت کا مصنوعی تقویٰ دھجی دھجی ہو گیا اور اسی وقت اس کی اصلاح ہوئی جب وہ اسلام کی غلامی میں آکر داخل ہوئے۔اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌؒ۰۰۱۲ اس دن ان کا رب یقیناً ان کی نگرانی کرنے والا ہو گا۔تفسیر۔لفظ خَبِیْر کا استعمال میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ بصیر اور علیم کے الفاظ صرف علمی حالت پر دلالت کرتے ہیں لیکن خَبِیْر کا لفظ اس علم کے مطابق عمل کرنے پر بھی دلالت کرتا ہے یعنی خَبِیْر میں علاوہ خبر رکھنے کے مجرموں کی سزااور ان کی خبر لینے کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے۔چنانچہ یہ آیت میرے اس دعویٰ کی مصدق ہے يَوْمَىِٕذٍ کا لفظ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ محض علم تو اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ حاصل ہے اس دن عالم ہونے کے کوئی معنے ہی نہیں۔پس خَبِیْر میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے ایک یہ کہ اس سے تمہارا کوئی جرم پوشیدہ نہ ہو گا اور دوسرے یہ کہ اس علم تفصیلی کے مطابق وہ اس دن جزا بھی دے گا۔يَوْمَىِٕذٍ کے ساتھ قرآن کریم میں صرف خَبِیْر کا استعمال ہوا ہے علیم و بصیرکا استعمال نہیں ہوا۔اردو میں بھی ’’ خبر لوں گا‘‘کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جو شاید خبیر کے لفظ سے ہی نکلا ہے۔اسی طرح پنجابی زبان میں بھی کہتے ہیں ’’میں تیری خبر لانگا‘‘ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میں تجھے تیرے اعمال کا بدلہ دوں گا۔پس اللہ فرماتا ہے اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ۔اس دن ان کا رب ان کا خبیر ہوگا