تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 157
میں کفار آپ کے سر پر اونٹ کی اوجھڑی رکھ دیتے ہیں اور پھر قہقہہ مار کر ہنس پڑتے ہیں گویا انہوں نے بہت بڑا کمال کیا ہے۔مکہ والوں کا مجاور ہونا درحقیقت یہ مفہوم رکھتا تھا کہ وہ قوم کے دینی پیشوا اور بزرگ ہیں مگر ان دینی پیشوائوں اور بزرگوںکا یہ حال تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازکے لئے جاتے ہیں خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور وہ لوگ اونٹ کی اوجھڑی جو غلاظت سے لت پت تھی اٹھا کر آپ کے سر پر رکھ دیتے ہیں اور پھر خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے کتنا اچھا کام کیا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے مکہ والو آج تم بڑے اچھے نظر آرہے ہو اور دنیا تمہارے متعلق سمجھتی ہے کہ تم لات کے پجاری ہو۔تم عزّیٰ کے ماننے والے ہو۔تم منات کے آگے سر جھکانے والے ہو۔تم خانہ کعبہ کی حفاظت کرنے والے ہو۔تم بڑے بزرگ اور خدا رسیدہ ہو حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ تمہارے دل خبث اور شرارت سے بھرے ہوئے ہیںاور ان میں گند ہی گند پایا جاتاہے ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کھڑا کر کے تمہارے ایک ایک گند کو ظاہر کر دیں گے اور دنیا کو بتا دیں گے کہ تم کیسے ناپاک اور گندے اخلاق کے مالک ہو چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد اہل مکہ کے تکلفات کی چادر سب پارہ پارہ ہو گئی۔مسلمانوں کو گالیاںدی گئیں۔عورتوں اور غلاموںپر ظلم کئے گئے۔صحابہؓ کوگھروںسے نکالا گیا۔لڑائیوں میں مارے جانے والوں کے انہوں نے ناک کان کاٹے اور ان کے کلیجے چبائے۔پھر احسان فراموشی کا اس رنگ میں مظاہرہ کیا گیا کہ ایک دفعہ کفار میں سے کچھ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بطور مہمان آئے۔مدینہ کی آب وہوا کے ناموافق ہونے کی وجہ سے وہ بیمار ہو گئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاج کاخاص طور پر اہتمام کیا اور صحابہؓ سے فرمایا کہ ان کو اونٹنیوںکا دودھ خوب پلائو۔چنددنوں کے بعد وہ اچھے ہو گئے تو جاتی دفعہ انہوں نے یہ شرافت کی کہ اونٹوں کے نگران کو مار ڈالا اور اونٹ چرا کر لے گئے(بخاری کتاب الطب باب الدّواء بابوال الابل ) یہ کیسی حد درجہ کی خباثت ہے کہ بیماری میں علاج کرواتے ہیں کھاتے پیتے ہیں اور جب اچھے ہوتے ہیں تو اونٹ چرا کر لے جاتے ہیں۔قادیان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بعض دفعہ ایسا ہوتا تھا اور اب بھی کبھی کبھی ہو جاتا ہے کہ بعض مخالف آتے ہیں،کھانا کھاتے ہیں،رہائش اختیار کرتے ہیںاور جب جانے لگتے ہیں تو بستر اٹھا کر لے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے احمدیوں کو خوب زک پہنچائی۔وہ بھی اونٹوں کا دودھ پیتے رہے علاج کرواتے رہے اور جب اچھے ہو کرجانے لگے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے نگران کو قتل کردیا اور اونٹ چرا کر لے گئے۔پھر ان کی دھوکا بازی کی یہ حالت تھی کہ ایک دفعہ بعض لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے