تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 156
ملتے اور کہتے آئیے تشریف لائیے۔آپ لات کے پاس جائیں گے۔عزّیٰ پر چڑھاواچڑھائیں گے۔منات کے سامنے ماتھا ٹیکیں گے۔جو بھی خدمت ہو ہم اسے بجا لانے کے لئے حاضر ہیں۔وہ سمجھتا کہ مکہ والے بڑے مہذب ہیں، بڑے نیک اور دین کے خادم ہیں دیکھو کس محبت کے ساتھ پیش آتے ہیں اور کیسا اعلیٰ درجہ کا لوگوں سے سلوک کرتے ہیں ذرا بھی ان کے ماتھے پر بل نہیں آتا۔غرض ان کی طبیعتوں میں تو گند بھرا ہوا تھا لیکن بظاہر بڑے مؤدب تھے اور کسی شخص کے وہم وگمان میں بھی نہیں آتا تھا کہ یہ لوگ اخلاق سے عاری ہو چکے ہیں اور دراصل یہی حال ہر منافق اور چالباز انسان کا ہوتا ہے کہ وہ بظاہر بڑا مؤدب ہوتا ہے مگر اندرونی طور پر اس کی طبیعت میں گند بھرا ہوا ہوتا ہے۔لوگ جب حج کے لئے جاتے ہیں تو جہاز سے اترتے ہی انہیں بعض ایسے آدمی مل جاتے ہیں جو بڑی محبت سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور کہتے ہیں آئیے تشریف لائیے ہم آپ کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تیار ہیں۔وہ اردو بھی جانتے ہیں، وہ پنجابی بھی جانتے ہیں، وہ کشمیری بھی جانتے ہیں، وہ پشتو بھی جانتے ہیںاور بعض لوگ تو ایسے ہوشیار ہوتے ہیں کہ بڑے اطمینان سے جہاز پر آکر حاجیوں کا اسباب اتارنا شروع کر دیتے ہیں اور قلیوں سے کہتے ہیں کہ ادھر آئو اور اسباب اٹھائو۔جو شخص ان کے ہتھکنڈوں سے واقف ہوتا ہے وہ تو جانتا ہے کہ یہ لوٹنے کے لئے آئے ہیں مگر جو ناواقف ہوتا ہے وہ بڑا خوش ہوتا ہے کہ معلوم نہیں یہ لوگ کہاں سے میرے باپ دادا کے واقف نکل آئے ہیں اور الحمدللہ کہتے ہوئے ان کے ساتھ چل پڑتا ہے۔وہ اسے عزت سے بٹھاتے ہیں ملازموں سے کہتے ہیں کہ ہاتھ دھلائو کھانا لائو، پانی پلائو اور جب وہ کھا کر فارغ ہو جاتا ہے تو اس کے سامنے ایک بہت بڑا بل پیش کر دیتے ہیں تب اسے پتہ لگتا ہے کہ یہ تو مجھے لوٹ کر لے گئے ہیں۔غرض منافق بظاہر بڑا چکنا چپڑاہوتا ہے۔دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ بڑا مؤدب ہے حالانکہ اس کے اندرونہ میں کھوٹ بھرا ہوا ہوتا ہے۔یہی حال مکہ والوں کا تھا کہ ان کے کلام میں بڑا تکلف پیدا ہو گیا تھا مگر دل گند سے بھرے ہوئے تھے۔پس فرماتا ہے ان کی جو چھپی ہوئی بدیاں ہیں ان کو ہم کھینچ کر باہر نکال دیں گے چنانچہ جب اسلام آیا ان کے سارے تکلّفات جاتے رہے اور ان کے وہ گند ظاہر ہوئے کہ الامان۔انہوں نے غلاموں پر ظلم کئے۔انہوں نے بچوں پر ظلم کئے۔انہوں نے عورتوں پر ظلم کئے یہاں تک کہ بعض عورتوں کی شرمگاہوںمیں انہوں نے نیزے مارے اور اس طرح ان کو ہلاک کیا۔(الطبقات الکبرٰی لابن سعد زیر لفظ سـمیہ) پھر تشبیب کے ذریعہ اس طرح بہتا ن تراشی سے کام لیا اور ایسی ایسی گندی گالیاں دیںکہ اگر انسان میں شرافت کا ایک شمہ بھی باقی ہو تو وہ ایسی حیا سوز حرکات نہیں کر سکتا۔اس سے زیادہ ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز کے لئے جاتے ہیں تو سجدہ کی حالت