تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 155

اور ایسا جوش اور ولولہ ان کے قلوب میں بھر دیا کہ وہ تین سو میل دو ر اپنے شہر سے نکل کر باہر گئے اور احد میں انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا۔حالانکہ مکہ والوں نے کبھی اپنی بڑائی کے زمانہ میں بھی کسی غیر قوم پر حملہ نہیں کیا تھا۔جیسے ٹمٹماتا ہوا چراغ جب بجھنے لگتا اور اس کا تیل ختم ہونے کے قریب پہنچتا ہے تو آخری دفعہ وہ اچھل کر جلتا اور پھر ختم ہو جاتا ہے اسی طرح جب انہیں اسلام کے مقابلہ میں اپنی موت نظر آئی تو ٹمٹماتے چراغ کی طرح انہوں نے بھی آخری سنبھالا لیا اور تین سو میل پر جا کر اسلام سے ٹکر لی۔چنانچہ احزاب میں انہوں نے حملہ کیا۔احد میں انہوں نے حملہ کیا۔بدر اولیٰ میںانہوں نے حملہ کیا اور بدر ثانیہ میں انہوں نے حملہ کیا یہ چار جنگیں ایسی ہیں جن میں مکہ والے تین تین سو میل دور اپنے گھروں سے باہر نکل کر گئے حالانکہ پہلے کسی تاریخ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مکہ کے لوگوں نے اتنی دور جاکر کسی غیر قوم پر حملہ کیا ہو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ یہ بےشک مردہ ہیں مگر ان مردوں کو بھی ایک دن ہم کھینچ کر باہر لے آئیں گے۔جیسے بجلی کی رو کسی دوسری چیز پر ڈالو تو وہ بھی اچھلنے کودنے لگ جاتی ہے اسی طرح مکہ والوں کا حال ہوا۔ان کی مردہ ہڈیوں میں بھی جان آگئی۔اور گویہ مخالفت کی وجہ سے ہی آئی مگر بہر حال آئی اسلام اور مسلمانوں کے تعلق کی وجہ سے۔اس کے بغیر ان میں خود بخود پیدا نہیں ہوگئی۔وَ حُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِۙ۰۰۱۱ اور جو کچھ سینوں میں (چھپاپڑا)ہے نکال لیا جائے گا۔تفسیر۔پہلی آیت میں یہ بتا یا گیا تھا کہ مکہ کے لوگ جو آج تمہیں مردہ دکھائی دیتے ہیں ان کی رگوں میں بھی اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے جوش میں زندگی کا خون دوڑنے لگے گا اور وہ مسلمانوں کو کچلنے کے لئے بڑھ بڑھ کر حملے شروع کر دیںگے اب اس آیت میں یہ بتاتا ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اسے کھینچ کر باہر نکال لیا جائے گا یعنی وہ گند اور خبث اور شرارت جو اس قوم کے دل میں نبوت سے دوری اور شرک کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے اسے ظاہر کر دیا جائے گا اور لوگوں کو بتادیا جائے گا کہ اندرونی طور پر یہ کیسے گندے اور ناپاک انسان ہیں۔مکہ کے لوگ چونکہ مجاور تھے ان کے کلام میں بڑا تکلف پایا جاتا تھا جو بھی مکہ میں آتا اسے بڑے تپاک سے