تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 149

کے چہرے پر میل ہوتی ہے۔ادھر ادھر چیزیں بکھری ہوئی ہوتی ہیں مگر اسے رات کی تاریکی کی وجہ سے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی ذات میں یا اس کے گردوپیش کے لوگوں میں کیا کیا نقائص ہیں جب صبح ہوتی ہے تو اسے فوراً نظر آجاتا ہے کہ فلاں چیز سیاہ ہے اور فلاں سفید۔فلاں اچھی ہے اور فلاں بری۔اسی طرح جب سالک اس مقام پر پہنچتے ہیں تو انوار سماویہ کے ظہور سے جو صبح پیدا ہوتی ہے اس کی روشنی میں انہیں اپنی وہ باریک کمزوریاں بھی معلوم ہو جاتی ہیں جو ان انوار کے ظہور سے پہلے مخفی ہوتی ہیں اور انہیں اپنی قوم کے وہ عیوب بھی نظر آنے شروع ہو جاتے ہیںجو پہلے نظر نہیں آیا کرتے تھے گویا علم کامل نہ ہونے کی وجہ سے جو عیوب پہلے مخفی ہوتے ہیں وہ اس صبح کے نتیجہ میں ظاہر ہو جاتے ہیں اپنے نفس کے بھی اور اپنی قوم کے بھی۔جب انہیں اپنے اور اپنی قوم کے عیوب نظر آتے ہیں تو فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا وہ اس کی وجہ سے مُغِیْـر بن جاتے ہیں یعنی اپنے عیوب پر بھی حملہ کر دیتے ہیںاور اپنی قوم کے عیوب پر بھی حملہ کر دیتے ہیں۔اپنی صفائی میں بھی مشغول ہو جاتے ہیں اور اپنی قوم کی صفائی میں بھی مشغول ہوجاتے ہیں۔فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا پھر اس حالت ظہور انوار میں وہ اپنی آوازوں کو بلند سے بلند تر کرتے چلے جاتے ہیں یعنی جب وہ عادات اور ہوا و ہوس پر حملہ کرتے ہیں۔جب وہ اپنے عیوب پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں اور اپنی قوم کی اصلاح کے لئے اس کے عیوب کو مٹانے کے لئے بھی کمر بستہ وتیار ہو جاتے ہیں تو اس وقت جانتے ہیں کہ ہمیں محض اپنی کوششوں اور تدابیر سے کامیابی نہیں ہوسکتی ہم جتنا زور لگائیں گے وہ بہر حال ناقص ہو گا اور پھر بھی کچھ کمزوریاں ہماری ذات میں باقی رہ جائیں گی اور ہماری قوم میں بھی باقی رہ جائیں گی ہم اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ اپنی کوششوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی دعائیں کرنی شروع کر دیں کہ وہ اس اہم کام میں ہماری مدد فرمائے اور اپنے فضل سے ہماری ناچیز مساعی میں برکت ڈالے چنانچہ وہ خدا تعالیٰ کے دربار میں اپنی آوازیں بلند کرنی شروع کر دیتے ہیں۔آہ وزاری اور چیخ وپکار سے کام لیتے ہیں۔درد مندانہ دعائوں سے اس کے فضل کو جذب کرتے ہیں اور کہتے ہیں خدایا تو آ اور ہماری مدد کر اور ہمارے دشمن کو تباہ وبرباد کر۔جب یہ دونوں باتیں جمع ہو جاتی ہیں یعنی ایک طرف وہ اپنے عیبوں اور اپنی قوم کے عیبوں کو دور کرنے کے لئے ذاتی طور پر کوشش کرتے ہیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کے دربار میں چیخ وپکا ر شروع کر دیتے اور اس سے دعائیں مانگنے لگ جاتے ہیں کہ وہ ان کی مددکرے اور اس دشمن کو تباہ کرے جو انہیں خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے قرب کے راستوں سے دور پھینکنا چاہتا ہے تو وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اور وہ اس پہلی جماعت میں مل جاتے ہیں جو ان سے پہلے اعلٰی عِلِّیِّیْن