تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 148

ہے ان چیزوں کو تو نظر انداز کر دیتے ہیں اور کوشش یہ کرتے ہیں کہ ان کے پاس روپیہ رہ جائے جو فی ذاتہٖ مقصود نہیں ہوتا بلکہ کسی اور چیز کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے۔وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا کا مطلب صوفیاء کے نزدیک اوپر کی آیات کا صوفیاء نے اپنے رنگ میں ایک اور مطلب بیان کیا ہے۔وہ کہتے ہیں عَادِیَات سے مراد سالکوں کے نفوس ہیںاورمراد یہ ہے کہ وہ کمالات روحانیہ کے حصول کے لئے بے تاب ہو کر دوڑتے اور جدو جہد کرتے ہیںحتی کہ ان کا سانس پھول جاتاہے اور لفظ عَادِیَات میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خیرات اور نیکیوں کے حصول کے لئے صبح شام کام میں لگے رہتے ہیں ایک کام کر کے بس نہیں کر دیتے بلکہ اس کے بعد دوسرا کام شروع کر دیتے ہیں۔دوسرا کام ختم ہوتا ہے تو تیسرا کام شروع کردیتے ہیں۔تیسرا کام ختم ہوتا ہے تو چوتھا کام شروع کر دیتے ہیں۔غرض ایک دوڑ ہے جس میں مشغول ہوتے ہیں۔ابھی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں پھر کسی غریب کی خدمت گذاری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔اس سے فارغ ہوتے ہیں تو تعلیم کا کام شروع کر دیتے ہیں وہ کام ختم ہوتا ہے تو کسی اور نیکی کو سر انجام دینے لگ جاتے ہیں۔غرض یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک دوڑ دوڑ رہے ہیںاور چاہتے ہیںکہ اس میدان میں دوسروں سے سبقت لے جائیں۔پس وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا سے مراد یہ ہے کہ سالک خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے ہر رنگ اور ہر طریق کو اختیار کرتے ہیںاور یکے بعد دیگرے نیکی کے کام کرتے چلے جاتے ہیں۔فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ نہ صرف عمل کے ذریعہ بے انتہا تیزی دکھاتے ہیں ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا کام شروع کر دیتے ہیں بلکہ ان کا دماغ بھی خالی نہیں رہتا وہ اپنے افکار کو ملاءِ اعلیٰ کی دہلیز پر مارتے ہیں یعنی غوروفکر اور تدبر اور سوچ بچار ان کا طرۂ امتیاز ہو تا ہے وہ ایک طرف خدا تعالیٰ کے کلام کے معانی معلوم کرتے ہیں تو دوسری طرف قانون قدرت پر گہری نظر ڈال کر اس کی حکمتیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔غرض اپنے افکار کو وہ شریعت اور قانون قدرت دونوں پر مارتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں انوار ومعارف پیدا ہونے لگتے ہیں جیسے چقماق پر ضرب لگا نے سے آگ پیدا ہوتی ہے اسی طرح وہ اپنے افکار کے ذریعہ جب ایک طرف شریعت پر اور دوسری طرف قانون قدرت پر ضربیں لگاتے ہیں تو ایک نور ظاہر ہوتا ہے اور اس نور سے صبح پیدا ہوجاتی ہے جس کا فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا میں ذکر آتا ہے جب ان کی کوششوں اور جدو جہد کے نتیجہ میں صبح پیدا ہوتی ہے جس سے مراد انوار سماویہ کا ظہور ہے تو جیسے صبح کے وقت بیسیوں چیزیںجو رات کو نظر نہیں آتیں نظر آنے لگ جاتی ہیں۔اسی طرح ان کو اپنے اور اپنی قوم کے وہ عیوب نظر آنے لگ جاتے ہیں جو انوار سماویہ کے ظہور سے پہلے مخفی ہوتے ہیں۔انسان