تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 130
اپنی موجودگی کا علم ہونے دیں مگر مسلمانوںکے متعلق فرمایا کہ وہ حملہ کرنے کے لئے جاتے ہیں تو آگ کو روشن رکھتے ہیںدشمن سے ڈر کر اسے بجھاتے نہیں۔اسی طرح اس آیت میںمسلمانوں کی سخاوت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ عرب لوگ آگ جلانے سے سخاوت اور دلیری دونوں مراد لیا کرتے تھے۔عرب شاعر اپنے مخالفوںکو مخاطب کر کے کہا کرتے تھے کہ ہماری قوم کی آگ جلتی رہتی ہے لیکن تمہاری قوم کی آگ بجھ جاتی ہے۔اس میں دونوں طرف اشارہ ہوا کرتا تھا اس طرف بھی کہ ہم بہادر ہیں۔ہم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ اگر ہم نے آگ روشن کی تو دشمن کو پتہ لگ جائے گا کہ ہم یہاں بیٹھے ہیںاور اس طرف بھی کہ تم رات کو کھانا پکا کر آگ بجھا دیتے ہو تاکہ کوئی مسافر اس آگ کو دیکھ کر تمہارے پاس کھانا کھانے کے لئے نہ آجائے لیکن ہماری قوم مہمان نواز ہے ہماری آگ جلتی رہتی ہے اور جب کوئی مسافر آگ کو روشن دیکھ کر ہمارے پاس آتا ہے تو ہم اسے کھانا کھلاتے ہیں۔پس فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا میں دونوں باتیںبیان کی گئی ہیں۔یہ بھی کہ ہم بہادر ہیں ہم روشنیوں کو ڈر سے بجھاتے نہیں بلکہ رات کو دلیری سے روشنی جلاتے ہیںاور یہ بھی کہ تم کَنُوْد ہو۔بخل کی وجہ سے کسی کو کھانا کھلانا بھی پسند نہیں کرتے۔مگر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اپنی روشنیاں جلائے رکھتے ہیںتاکہ مسافر اور غرباء و مساکین وغیرہ آئیں اور کھانا کھائیں۔یہ معنے ایسے ہیںجو کَنُوْد کے مقابلہ میںاس مقام پر زیادہ عمدگی سے چسپاں ہوتے ہیں۔بعض مفسرین نے یہ بھی معنے کئے ہیں جو بہت لطیف ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے رات کے لئے فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا کہا ہے اور صبح کے لئے فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا کہا ہے یعنی دونوں موقعوں پر جو چیز زیادہ ظا ہر ہونے والی تھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔رات کو اڑتی ہوئی گرد نظر نہیں آتی اور دن کو آگ کی روشنی نظر نہیں آتی پس مُوْرِيٰتِ قَدْحًا کو پہلے رکھ کر بتایا کہ وہ رات کو روشنیاں جلاتے ہیںاور دشمن کو للکار کر کہتے ہیںکہ دیکھ لو ہم آئے ہوئے ہیںاور صبح کو اپنے گھوڑوں سے گرد اڑاتے ہیںتاکہ وہ دور سے ہی دیکھ لیں کہ ہم آرہے ہیں۔گویا ان دونوں آیتوں میںمسلمانوں کی جرأت اور ان کی بہادری کا اعلان کیا گیا ہے۔فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًاۙ۰۰۴ پھر صبح ہی صبح حملہ کرنے والوں کی۔حلّ لُغات۔مُغِیْـرَات: اغارسے اسم فاعل مونث کا جمع کا صیغہ ہے اور اَغَارَ الرَّجُلُ کے معنے ہوتے ہیں اَتَی الْغَوْر وہ پانی کے چشمہ پر آیا یا کسی غار وغیرہ پر پہنچا اور اَغَارَ زَیْدٌ کے معنے ہوتے ہیں ذَھَبَ فِی