تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 128

اس کے بعد حملہ کرنے کا ذکر ہے اس کے یہ معنے کرنے زیادہ درست ہوں گے کہ صحابہؓ حسب سنت نبویؐ جب حملہ کرنے کے لئے جاتے ہیں تو فوراً حملہ نہیں کر دیتے بلکہ قریب جا کر سواریوں سے اترجاتے ہیںاور کھانا وغیرہ پکاتے اور رات گذارتے ہیںپھر صبح کو حملہ کرتے ہیں۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت میں یہ بات داخل تھی کہ آپ کبھی سیدھا حملہ نہیں کرتے تھے بلکہ جہاں حملہ کرنا ہوتا اس مقام سے ایک دو میل دور اپنے ڈیرے لگا دیتے اور جب صبح ہوتی تب حملہ کرتے۔(صحیح بخاری کتاب المغازی حدیث کعب بن مالک) پس اگر اس آیت سے کھانا پکانے کے لئے آگ جلانا ہی مراد ہو تو بھی جنگ سے واپسی پر کھا نا پکانا مراد نہیں بلکہ حملہ سے پہلے کھانا پکا نا مراد ہے۔اگر فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا میں حملہ کے بعد آگ روشن کرنے اور کھانا پکانے کا ذکر ہوتا تو اس کے بعد فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا نہ آتا اللہ تعالیٰ کا پہلے فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا رکھنا اور پھر فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا کہنا صاف بتا رہا ہے کہ اس آیت میں حملہ سے واپسی کا ذکر نہیں بلکہ ذکر یہ ہے کہ جب وہ حملہ کرنے جاتے ہیںتو فوراًحملہ نہیںکردیتے بلکہ رات کو ٹھہرتے آگ جلاتے اور کھانا وغیرہ پکاتے ہیں جب صبح ہوتی ہے تب حملہ کرتے ہیں۔فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا میں مسلمانوں کے ایک خُلق کی طرف اشارہ ان آیات میں ایک طرف تو یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی جان دینے کا اس قدر جوش پایا جاتا ہے کہ جب وہ اپنے زبر دست اور کثیر التعداد دشمنوں کے مقابل پر جاتے ہیںتو وہ اپنے گھوڑوں کو ایڑیاں مارتے اور ان کو دوڑاتے اور کداتے چلے جاتے ہیںاور اس امر کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے کہ ان کے گھوڑے زندہ رہتے ہیں یا مر تے ہیں۔مگر دوسری طرف ان میں ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق اسلامی پائے جاتے ہیںکہ جب وہ عین دشمن کے سر پر پہنچ جاتے ہیںاس وقت یک دم حملہ نہیں کرتے بلکہ منزل کرتے ہیںاور کھانا پکاتے ہیںاور رات بسر کرتے ہیںپھر جب صبح ہوتی ہے تب حملہ کرتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام عمر یہ معمول رہا کہ آپ کبھی رات کو حملہ نہیں کرتے تھے اور نہ صحابہ ؓ کو شب خون مارنے کی اجازت دیتے تھے۔دراصل عرب میں الگ الگ قبائل ہوا کرتے تھے اور وہ خانہ بدوش ہونے کی وجہ سے اپنی جگہیں ہمیشہ تبدیل کرتے رہتے تھے اس وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حملہ میں بہت محتاط پہلو اختیار فرماتے تھے۔آپ فرماتے کہ کبھی رات کو حملہ نہ کرو ممکن ہے ایک قبیلہ اٹھ جائے اور دوسرا قبیلہ اس کی جگہ آبیٹھے اور تم غلطی سے دشمن کی بجائے کسی اور پر حملہ کر دو۔اس لئے صبح تک انتظار کرو اگر صبح کو ان کی اذان کی آواز تمہارے کان میں