تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 123

یعنی کیا تو باور نہیں کرتا اور باوجود مسلمان ہونے کے شک کو دخل دیتا ہے۔آخر تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ فی الحقیقت ڈگری ہی ہوئی تھی اور فریق ثانی نے حکم کے سننے میں دھوکا کھایا تھا‘‘ (براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۵۸،۶۵۹) اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر ایک خبر دیتے ہیںاور واقعہ اس کے مطابق ہو تا ہے مگر جب آریہ جھوٹی افواہ مشہور کر دیتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ تسلی دیتا ہے اور دوبارہ بتاتا ہے کہ’’ڈگری ہو گئی ہے مسلمان ہے‘‘ یعنی تم مسلمان ہو تمہیں خدا تعالیٰ کے کلا م پر یقین رکھنا چاہیے واقعہ یہی ہے کہ ڈگری ہو گئی ہے۔اسی طرح جب منافقین نے جھوٹی افواہیں پھیلانی شروع کر دیںتو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا والی آیات دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کر دی ہوں یہ بتانے کے لئے کہ تم نے ہی جیتنا ہے اور اس بارہ میںہم پہلے سے پیش گوئی کر چکے ہیںمنافقوں کا کیا ہے وہ تو جھوٹ بول رہے ہیں۔غرض میرے نزدیک یہ دونوں صورتیں ممکن ہیںیہ بھی کہ جب یہ پہلا سریہ گیا اور منافقوں نے مشہور کر نا شروع کر دیا کہ مسلمان سب مارے گئے ہیںتو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فر مایا ہو کہ وہ کس طرح مارے جا سکتے ہیں۔یہ پہلا سریہ ہے جو گھوڑوں پر گیا ہے اور اس لحاظ سے اس پیش گوئی کا پہلا مصداق ہے جو خدا تعالیٰ نے وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا میں کی ہوئی ہے اس لئے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ مارے جائیں اور سننے والے نے سمجھا ہوکہ اسی واقعہ پر یہ سورۃ نازل ہوئی ہے۔حا لانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ کہہ چکا ہے کہ ہمیں فتح ہو گی تو منافقوں کی یہ بات کس طرح درست ہو سکتی ہے کہ مسلمان مارے گئے ہیں۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مکی آیات دوبارہ مسلمانوں کی تسلی کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل کر دی گئی ہوں۔بہر حال کوئی صورت ہو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کو پیشگوئی قرار دیا ہے جو ثبوت ہے اس بات کا کہ غزوات اسلامیہ پر ان آیات کو چسپاں کرنا بالکل درست ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید ان معنوں کو حاصل ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لغت میںبعض دوسرے جانور وں کی آواز کو بھی ضَبْحٌ کہا جاتا ہے۔مثلاً اُلو کی آواز کو بھی ضَبْحٌ کہتے ہیں۔لومڑ کی آواز کو بھی ضَبْحٌ کہتے ہیں۔کالے سانپ کی آواز کو بھی ضَبْحٌ کہتے ہیں۔خر گوش کی آواز کو بھی ضَبْحٌ کہتے ہیں۔ان جانوروںکی آواز کے علاوہ کمان سے جو آواز نکلتی ہے اسے بھی ضَبْحٌ کہتے ہیںاور اس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اتنی چیزوں کے لئے ضَبْحٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو پھر وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا کو