تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 122

ہیںکہ یہ سورۃ مدینہ میں نازل ہوئی تھی مکہ میں نہیں۔ایک طرف اسے مکی قرار دینا اور دوسری طرف اس آیت کا شانِ نزول ایسا بتانا جس سے یہ مدنی ثابت ہو عجیب بات ہے۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جیسا میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوںیہ امر کثرت سے ثابت ہے کہ ایک ایک آیت کے کئی کئی شان نزول بتائے گئے ہیںاور محققین کا قول ہے کہ در حقیقت شان نزول کے معنے صرف اتنے ہوتے ہیںکہ فلاں آیت فلاں واقعہ پر بھی چسپاںہوتی ہے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہی واقعہ اس آیت کا شان نزول تھا اس جگہ بھی یہی مراد ہے یعنی چونکہ یہ پہلا غزوہ تھا جس میں سب یا بکثرت گھوڑے استعمال کئے گئے تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلٖ وسلم نے اس پہلے سے نازل شدہ سورۃ کو ان لوگوں پر جو ایسی خبریں مشہور کرتے تھے چسپاں کیا اور یہ استدلال فرمایا کہ جس سورۃ میں گھڑ سواروں کی خبر ہے وہ ضرور پہلی گھڑ سواروںکی فوج پر تو پوری ہو گی اور چونکہ اس سورۃ میںاسلامی گھڑسواروں کے جیتنے کی خبر ہے اس لئے ضرور یہ لشکر جیت کر آئے گا۔پس آپ نے اس سورۃ سے استنباط کر کے لوگوں کو بتا دیا کہ وہ سوار جنہیںمیں نے بھجوایا ہے اس پیش گوئی کے ماتحت جیت کر آئیں گے اور تمہاری مایوسانہ طبیعت کا پول کھل جائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب منافقین نے یہ افواہیں مشہور کی ہوںتو اللہ تعالیٰ نے اسی پرانے کلام کو دوبارہ نازل کرکے مسلمانوں کو تسلی دی ہو کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیںسریہ واپس آئے گا اور کامیاب وکامران واپس آئے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بارہ میں پہلے سے پیش گوئی کر چکا ہے اور تم سمجھ سکتے ہو کہ بہر حال اللہ تعالیٰ کی ہی پیش گوئی پوری ہو گی منافقین کی بات سچی نہیں ہو سکتی۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام نے تحریر فرمایا ہے کہ:۔’’ایک مقدمہ میںکہ اس عاجز کے والد مرحوم کی طرف سے اپنے زمینداری حقوق کے متعلق کسی رعیت پر دائر تھا۔اس خاکسار پر خواب میں یہ ظاہر کیا گیا کہ اس مقدمہ میں ڈگری ہو جائے گی چنانچہ اس عاجز نے وہ خواب ایک آریہ کو کہ جو قادیان میں موجود ہے بتلادی۔پھر بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ اخیر تاریخ پر صرف مدعا علیہ مع اپنے چند گواہوں کے عدالت میں حاضر ہوا اور اس طرف سے کوئی مختار وغیرہ حاضر نہ ہوا۔شام کو مدعا علیہ اور سب گواہوں نے واپس آکر بیان کیا کہ مقدمہ خارج ہو گیا۔اس خبر کو سنتے ہی وہ آریہ تکذیب اور استہزاء سے پیش آیا۔اس وقت جس قدر قلق اور کر ب گذرا بیان میں نہیں آسکتا۔کیونکہ قریب قیاس معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ایک گروہ کثیر کا بیان جن میںبے تعلق آدمی بھی تھے خلاف واقعہ ہو۔اس سخت حزن و غم کی حالت میںنہایت شدت سے الہام ہواکہ جو آہنی میخ کی طرح دل کے اندر داخل ہو گیا۔اور وہ یہ تھا۔ڈگری ہو گئی ہے مسلمان ہے۔