تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 118

خاص قسم کی آواز پید اہونے لگتی ہے تب بھی۔ان تینوں صورتوں میں یہ امر ظاہر ہے کہ اس آیت میں ایسے گھوڑوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو جوش و خروش سے اور انتہا ئی رغبت اور شوق سے دوڑتے ہیں۔یہ سیدھی بات ہے کہ گھوڑا خود نہیں دوڑتا بلکہ دوڑانے والا اسے دوڑاتا ہے اس لئے گو یہاں گھوڑوں کا ذکر ہے مگر اس سے مراد وہ سوار ہیں جو گھوڑوں کو تیزی سے دوڑاتے ہیںیا گھوڑوں کو اس طرح دوڑاتے ہیںکہ ان کے سینوں میں سے آوازنکلنی شروع ہو جاتی ہے وہ ذرا بھی پروا نہیں کرتے کہ ان کا گھوڑا زندہ رہتا ہے یا مرتا ہے یا اس قدر ان میں جوش پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے گھوڑوں کو کُداتے جاتے ہیں۔تفسیر۔سورۃ عادیات میں غزوات اسلامیہ کے متعلق پیشگوئی مجھے اس سورۃ کے متعلق یہ خاص طور پر خوشی ہے کہ خود صحابہؓ نے اس کے ایسے معنے کئے ہیںجن سے یہ ایک عظیم الشان پیش گوئی کی حامل قرار پاتی ہے۔بہت کم آیات ایسی ہیں جن کے معنے کرتے ہوئے گذشتہ مفسرین نے ان کو کسی پیش گوئی کا حامل قراردیا ہو۔میں سمجھتا ہوںکہ ایسی آیات کی تعداد پانچ سات سے زیادہ نہیں ہو گی۔با لعموم پرانے مفسر ین کا یہ طریق رہا ہے کہ وہ قرآن کریم کی آیات کو یا قیامت پر چسپاں کر دیتے ہیںیا بعض گذشتہ واقعات کی طرف ان کو منسوب کر دیتے ہیں۔لیکن اس آیت کے متعلق گوحضرت علیؓاور بعض دوسرے صحابہؓ کا یہ بھی قول ہے کہ اس میں حج کا ذکر ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عباسؓبڑے اصرار کے ساتھ اس امر پر قائم تھے کہ اس سورۃ میں غزوات اسلامیہ کا ذکر ہے اور ان حملوں کی خبر دی گئی ہے جو مسلمانوں نے کفار پر کرنے تھے(فتح البیان سورۃ العادیات زیر آیت وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا)۔یہاں آکر ریور نڈویری کا ہمارے ساتھ متفق ہو جانا اور کہنا کہ یہ سورۃ مکی ہے کوئی معمولی بات نہیں۔غالباً ان کا ذہن حج کی طرف ہی چلا گیا ہے ورنہ اگر انہیںپتہ ہوتا کہ مکہ میں گھڑ چڑھے سواروں کا ذکر غزوات اسلامیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ ایک زمانہ میں مسلمانوںکو کفار سے لڑائیاں کرنی پڑیں گی تو وہ کبھی اس سورۃ کو مکی قرار نہ دیتے۔بہرحال گھوڑے کا کودنا مالک کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔پس گو یہاں گھوڑوں کا ذکر ہے مگر دراصل وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا میں سواروں کے جوش کا اظہار ہے۔ضَبْحًا خواہ تیز دوڑ کا نام ہو، خواہ دوڑنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اس کی طرف اشارہ ہو، خواہ ٹانگیں اٹھا اٹھا کر دوڑنا یا کداتے چلے جانا مراد ہو بہرحال گھوڑا خود نہیں دوڑتا بلکہ اسے سوار دوڑاتا ہے۔پس یہ تینوں حالتیں سوار کے قلب کی کیفیت کے متعلق ہیں اور مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں جہاد کا اس قدر جوش ہوگا کہ وہ بے تحاشا اپنے گھوڑوں کو ایڑیاں مار مار کر دوڑاتے ہوئے دشمن کے ملک کی