تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 113

اور اگر بدی سے بچتا ہو تو و ہ بھی اتفاقیہ طورپر۔نہ اس کی نیکی کا باعث خدا تعالیٰ کی محبت ہو اور نہ اس کا بدی سے بچنا خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے ماتحت ہو۔ایسا شخص اس انعام سے حصہ نہیں لے سکتا یہ انعام اسی کے لئے مقدر ہے جس کا دل اﷲ تعالیٰ کی محبت سے سرشار ہو گا۔اور جو اپنی تمام کوتاہیوں کے باوجود محبت الٰہی کی آگ اپنے اندر رکھتا ہو گا۔اور یقیناً جس دل میں خدا تعالیٰ کی محبت ہو گی اسے کبھی دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا۔اﷲ تعالیٰ کسی نہ کسی طرح اس کی نجات کا سامان پید اکردے گا اور حساب بنا بنا کر اور مختلف ذرائع اور طریق اختیار کرکے اسے جنت میں لے جانے کی کوشش کرے گا۔چنانچہ اسی روایت کا آخری حصہ یہ ہے کہ فَمَنْ زَادَتْ حَسَنَاتُہٗ عَلٰی سَیِّاٰتِہٖ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ دَخَلَ الْـجَنَّۃَ۔اگر یہ تمام طریق اختیار کرنے کے بعد بھی کوئی شخص ایسا نکلا جس کی بدیوں سے اس کی نیکیاں صرف ایک ذرہ کے برابر بھی زیادہ ہوئیں تو اﷲ تعالیٰ اس کے متعلق اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ جائو اسے جنت میں داخل دو۔اس کا مفہوم یہی ہے کہ جو شخص سچا مومن ہو گا اور جس کے متعلق اﷲ تعالیٰ یہ جانتا ہو گا کہ اسے ایمان صادق حاصل ہے اس کو بچانے کے لئے اﷲ تعالیٰ ہر تدبیر اختیار کرے گا کہ وہ دوزخ میں نہ جائے جیسے ماں اپنے بچے کو مصیبت سے بچانے کے لئے اپنے سارے ذرائع صرف کر دیتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہؓ سے جو محبت تھی اور صحابہؓ کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عشق پایا جاتا تھا وہ بھی اپنے اندربعض اس قسم کی مثالیں رکھتا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں سچی محبت ہو وہاں کوئی نہ کوئی ذریعہ دوسرے شخص کو مصیبت سے بچانے کے لئے نکال ہی لیا جاتا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا یا رسول اﷲ مجھ سے فلاں خطا سر زد ہو گئی ہے اب میں کیا کروں۔آپ نے فرمایا کہ کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ مجھ میں غلام آزاد کرنے کی کہاں طاقت ہے۔آپ نے فرمایا اچھا کیا تم د۲و مہینے متواتر روزے رکھ سکتے ہو ؟ اس نے عرض کیا یارسول اللہ روزے رکھنے کی بھی مجھ میں ہمت نہیں۔آپ نے فرمایاتو پھر ساٹھ مسکینوںکوکھانا کھلا دو۔کہنے لگا یا رسول اﷲ میں کہاں سے کھلائوں میرے پاس تو ان کو کھلانے کے لئے کچھ نہیں۔ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ کوئی شخص کھجوروں سے بھرا ہوا ٹوکرا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایالو میاں یہ کھجوریں اٹھا ئو اور مساکین میں تقسیم کردو تمہارے گناہ کا کفارہ ہو جائے گا۔اس نے کھجوریں اٹھا لیں اور کہنے لگا یا رسول اﷲ ایک اور بات بھی عرض کرنے کے قابل ہے آپ نے فرمایا کیا؟ کہنے لگا مدینہ میں مجھ سے بڑھ کر تو اور کوئی غریب شخص نہیں۔میں کسے تلاش کروں گا۔آپ یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمایا جائو یہ کھجوریں خود ہی کھا لو۔تمہاری طرف سے