تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 110
تین درجے بیان کئے گئے ہیں۔پہلا یہ کہ انسان ایسی حالت میں صدقہ کرے جبکہ وہ خود ضرورت مند ہو۔اس سے بڑا درجہ یہ ہے کہ انسان کو صدقہ سے ایسا لگاؤ پیدا ہوجائے کہ جب تک وہ صدقہ نہ کر لے اسے چین اور آرام ہی نہ آئے اور پھر اس سے بڑا درجہ یہ ہےکہ یہ کام کسی بدلہ کی خواہش کی وجہ سے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسانات کے شکریہ میں یہ کام کیا جائے۔صحابہؓ نے اس کے معنے عَلٰی حُبِّ الطَّعَامِ کے ہی کئے ہیں یعنی ایسی چیز جو تم کو پسند بھی ہو اور تمہاری ضرورت کو پورا کرنے والی بھی ہو وہ چیز تمہیں صدقہ میں دینی چاہیے۔بہرحال سعید بن جبیرؓ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی اور صحابہؓ نے اس کے یہ معنے کئے کہ قرآن کریم یہ ہدایت دیتا ہے کہ مساکین و یتامیٰ اور اسیروں کو ہمیں ایسا کھانا کھلانا چاہیے جو ہمیں مرغوب بھی ہو اور ہماری ضرورت کو بھی پورا کرنے والا ہو تو کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ یَرَوْنَ اَنَّـھُمْ لَا یُؤْجَرُوْنَ عَلَی الشَّیْءِ الْقَلِیْلِ اِذَا اَعْطَوْہُ۔اس سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ اگر ہم کوئی تھوڑی سی چیز صدقہ دیں گے تو اس کا کوئی ثواب نہیں ہوگا فَیَجِیْءُ الْمِسْکِیْنُ اِلٰی اَبْوَابِـھِمْ فَیَسْتَقِلُّوْنَ اَنْ یُّعْطَوْہُ تَـمْرَۃً وَالْکِسْـرَۃَ وَالْـجَوْزَۃَ وَ نَـحْوَ ذَالِکَ فَیَرُدُّوْنَہٗ وَ یَقُوْلُوْنَ مَا ھٰذَا بِشَیْءٍ اِنَّـمَا نُؤْجَرُ عَلٰی مَا نُعْطِیْ وَ نَـحْنُ نُـحِبُّہٗ۔چنانچہ جب کوئی مسکین ان کے دروازہ پر آتا تو چونکہ ان کی مالی حالت ایسی نہیں ہوتی تھی کہ وہ زیادہ صدقہ دے سکیں اور دوسری طرف ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نے کوئی تھوڑی سی چیز صدقہ میں دے دی تو ہمیں اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا اجر اسی چیز کا مل سکتا ہے جو زیادہ ہو اور ایسی حالت میں صدقہ دی جائے جب انسان اس کی خود ضرورت محسوس کرتا ہو۔اس لئے وہ ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ایک ٹکڑہ یا اخروٹ کا ایک دانہ اسے نہ دیتے اور کہتے جاؤ میاں ہمارے پاس کچھ نہیں وَ یَقُوْلُوْنَ مَا ھٰذَا بِشَیْءٍ۔اور سمجھتے کہ ہم نے یہ کیا خیرات کرنی ہے اِنَّـمَا نُؤْجَرُ عَلٰی مَا نُعْطِیْ وَ نَـحْنُ نُـحِبُّہٗ۔ہمیں تو اسی چیز کا بدلہ ملے گا جو ہم ایسی حالت میں دیں گے جبکہ ہمیں خود اس کی ضرورت ہوگی اور وہ بڑی ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا۔وَکَانَ اٰخَرُوْنَ یَرَوْنَ اَنَّـھُمْ لَا یُلَامُوْنَ عَلَی الذَّنْبِ الْیَسِیْرِ الْکَذْبَۃِ وَالنَّظْرَۃِ وَالْغِیْبَۃِ وَاَشْبَاہِ ذَالِکَ۔پھر بعض لوگ ایسے تھے جو سمجھتے تھے کہ ہمیں چھوٹے چھوٹے گناہوں پر کوئی سزا نہیں ملے گی جیسے کبھی جھوٹ بول لیا یا کسی غیر عورت پر نظر ڈال لی یا غیبت سرزد ہوگئی یا اسی قسم کا کوئی اور فعل ہوگیا تو ہمیں سزا نہیں ملے گی یَقُوْلُوْنَ اِنَّـمَا وَعَدَ اللہُ النَّارَ عَلَی الْکَبَائِرِ۔وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کبائر پر سزا مقرر کی ہے صغائر پر نہیں فَرَغَّبَـھُمْ فِی الْقَلِیْلِ مِنَ الْـخَیْرِ اَنْ یَّعْمَلُوْہُ فَاِنَّہٗ یُوْشِکُ اَنْ یَّکْثُرَ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو