تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 107

پس چونکہ توبہ کے وقت انسان کا دل زخمی ہو تا ہے اور وہ اپنے گناہوں کو یاد کر کر کے سخت شرم سار ہوتا ہے اس لئے یہی اس کا اپنے شر کو دیکھنا ہو تا ہے۔اگر وہ شر نہ کرتا تو اس کے دل کو اس رنگ میں تکلیف بھی نہ پہنچتی۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو پیدا ہی اس رنگ میں کیا ہے کہ اس نے ان میں صفت قدرت رکھ دی ہے یعنی وہ بدی بھی کر سکتے ہیں اور نیکی بھی کر سکتے ہیں۔اگر کوئی صاحب قدرت مخلوق نہ ہوتی تو اﷲ تعالیٰ کی بعض صفات دنیا پر ظاہر نہ ہو سکتیں۔صاحب قدرت مخلوق ہو نے کی وجہ سے چونکہ لوگوں سے بدیاں بھی سر زد ہو تی ہیں اور نیکیاں بھی اس لئے اس کی کئی صفات ظاہر ہوتی رہتی ہیں کہیں غفاری کی صفت ظاہر ہورہی ہے، کہیںستاری کی صفت ظاہر ہورہی ہے،کہیں رزاقیت کی صفت ظاہر ہو رہی ہے،کہیں امانت کی صفت ظاہر ہو رہی ہے،کہیں احیاء کی صفت ظاہر ہو رہی ہے اور یہ سب صفات وہ ہیں جو انسانی پیدائش کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم گناہ نہ کرو اورخدا تعالیٰ تمہاری توبہ پر مغفرت سے کام نہ لے تو لَـخَلَقَ اللہُ اُمَّۃً یُـخْطِئُوْنَ وَیُذْنِبُوْنَ فَیَغْفِرُ لَھُمْ اﷲ تعالیٰ یقیناً اورلوگ ایسے پیدا کر دے جو گناہ کریں اور اﷲ تعالیٰ ان کو معاف کرے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ کو گناہ پسندہیں بلکہ یہ کہ صاحب قدرت مخلوق ہی صفات الٰہیہ کو ظاہر کرتی ہے۔اگر صاحب قدرت مخلوق دنیا میں نہ ہوتی تو اس کی بعض صفات بھی ظاہر نہ ہوتیں اور جب انسان کو صاحب قدرت بنایا گیا ہے تو بہر حال صاحب قدرت مخلوق میں سے کچھ گناہ گار بھی ضرور ہوں گے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ہوں تو صاحب قدرت مگر ہر شخص نیکی پر مجبور ہو۔انسان کا صاحب قدرت ہونا ہی بتا رہا ہے کہ انسا نوں میں سے کچھ بدیوں کا بھی ارتکاب کریں گے اور پھر ان میں سے جو چاہیں گے ان کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہوگا تا اگر ان کا دل شرمندہ ہو اور ندامت کی آگ میں جل کر صاف ہو جائے تو توبہ کے ذریعہ ان کے گناہ معاف ہو جائیں اور اس طرح اﷲ تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی رہیں۔اسی طرح ابن ابی حاتم ابی سعید الخدری سے روایت کرتے ہیں کہ قَا لَ لَمَّا اُنْزِ لَتْ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّیْ لَرَاءٍ عَـمَلِیْ قَالَ نَعَمْ۔یعنی ابو سعید خدری کہتے ہیںکہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ۔تو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲکیا میں اپنے ہر عمل کا نتیجہ دیکھوں گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔قُلْتُ تِلْکَ الْکِبَارُ الْکِبَارُ میں نے کہا بڑے بڑے عمل بھی نظر آئیں گے؟ قالَ نَعَمْ فرمایا ہاں قُلْتُ تِلْکَ الصِّغَارُ الصِّغَارُ۔میں نے کہا چھوٹے چھوٹے عمل بھی نظر آئیں گے؟قَا لَ نَعَمْ۔آپ نے فرمایا