تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 106

لیا وَقَالَ یَا رَسُوْ لَ اللہِ اِنّیْ اُجْزٰی بِـمَا عَـمِلْتُ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ مِّنْ شَـرٍّ اور کہا یا رسول اﷲ کیا ایک ذرّہ بھر بدی مجھ سے سرزد ہوئی تو قیامت کے دن مجھے اس کی سزا ملے گی اگر ایسا ہوا تب تو بڑی مشکل ہے۔فَقَالَ یَا اَبَا بَکْرٍ مَارَأَیْتَ فِی الدُّنْیَا مِـمَّا تَکْرَہُ فَبِمَثَاقِیْلِ ذَرِّ الشَّـرِّ وَ یَدَّخِرُاللہُ لَکَ مَثَاقِیْلَ الْـخَیْرِ حَتّٰی تُوَفّٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃَ (تفسیر طبری سورۃ الزلزال زیر آیت اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا)۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ٹھیک ہے مگر اے ابو بکر تم گھبرائو نہیں دنیا میں انسان کو جو تکلیفیں پہنچتی ہیں ذرہ ٔشر کی وجہ سے پہنچتی ہیں اس طرح خدا تعالیٰ شر کے ذروں کو یہیں ختم کر دے گا اور خیر کے ذروں کو باقی رکھے گا اور انہی کی بنا پر مومن کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔اس حدیث کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ہر ایک کے لئے نہیں بلکہ ابو بکر ؓ یا ابو بکر ؓ جیسے مقام کے انسان کے لئے ہے۔حضرت ابو بکر ؓ کی اتنی ہی بدیاں تھیں جو دنیا میں ختم ہو سکتی تھیں اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔تمہارا شر اتنا ہی ہے کہ اگر تمہیں کبھی بخار چڑھا یا روپیہ ضائع ہو گیا یا کوئی اورتکلیف پہنچی تو اسی میں وہ ذرہ شر ختم ہو جائے گا اور قیامت کے دن تمہارے اعمال میں خیر ہی خیر ہو گا۔اسی طرح ابن جریر ہی حضرت عمرو بن عاص سے روایت کرتے ہیں اِنَّہٗ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا وَ اَبُوْبَکْرٍ الصِّدِّیْقُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَاعِدٌ فَبَکٰی حِیْنَ اُنْزِلِتْ یعنی جب یہ سورۃ نازل ہوئی کہ اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا تو اس وقت حضرت ابو بکر ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے یہ سورۃ سنی تو رو پڑے۔فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یُبْکِیْکَ یَا اَبَا بَکْرٍ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے ابو بکر تمہیں کس بات نے رُلا یا ہے ؟ قَالَ یُبْکِیْنِیْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ۔حضرت ابوبکرؓ نے کہا یارسول اﷲ مجھے تو اس سورۃ نے رُلایا ہے یعنی اگر ہم نے شر کا ایک ذرّہ بھی دیکھنا ہے تب تو ہم جنت سے محروم رہے فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْلَا اِنَّکُمْ تُـخْطِئُوْنَ وَتُذْنِبُوْنَ فَیَغْفِرُ لَکُمْ لَـخَلَقَ اللہُ اُمَّۃً یُـخْطِئُوْنَ وَیُذْنِبُوْنَ فَیَغْفِرُ لَھُمْ(تفسیر طبری سورۃ الزلزال زیر آیتاِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھبرائو نہیں بےشک مومن شر بھی دیکھیں گے مگر شر دیکھنے سے مراد ان کا اپنے گناہوں سے توبہ کرناہے جب کوئی انسان سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو یہی اس کا شر کو دیکھنا ہو جاتا ہے کیونکہ توبہ اسی وقت کی جاتی ہے جب انسان کا دل ندامت سے پُر ہو جائے اور وہ اپنے گذشتہ گناہوں کو یاد کرکے سخت شرمندہ ہو اور محسوس کرے کہ اس نے اپنی زندگی میں بڑی بھاری غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے جن کی اسے تلافی کرنی چاہیے۔