تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 7
نہیں ملتا تو قرآن عظیم میں اس مسئلہ کو تلاش کرتے ہیں۔اس سے اُمت میں غورو فکر کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے علم میں زیادتی ہوتی ہے لیکن باوجود اس کے سورۂ فاتحہ کو سارے قرآن کریم کا قائم مقام نہ تو ہم مانتے ہیں اور نہ آج تک کسی نے ایسا کیا ہے۔اور ان احادیث میں تو یہ کہا گیا ہے کہ جس نے فلاں سورۃ پڑھی اسے نصف یا ثلث یا ربع قرآن کریم پڑھنے کا ثواب مل گیا۔مگر سورۂ فاتحہ کی نسبت تو ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ جس نے سورۂ فاتحہ پڑھی اسے سارے قرآن کا ثواب مل گیا مضمو ن کا ہونا اور شے ہے اور ثواب کا ملنا بالکل اور شے ہے۔اگر یہاں بھی مضمون مراد ہے تو اس نصف یا ثلث یا ربع کی تعیین ہونی چاہیے تھی۔جس نصف یا ثلث یا ربع کا یہ سورتیں خلاصہ ہیں آخر قرآن کریم کا نصف کئی صورتوں میں ہو سکتا ہے اس صورت میں بھی کہ پہلا نصف مراد لے لیا جائے۔اس صورت میں بھی کہ دوسرا نصف مراد لے لیاجائے اور اس صورت میں بھی کہ قرآن کریم کو متفرق جگہوں سے نکال کر اس کا نصف یا ثلث یا ربع مراد لے لیا جائے۔سورۂ فاتحہ میں تو ایک تعیین کر دی گئی تھی کہ وہ سارے قرآن کریم کا خلاصہ ہے اس تعیین کا فائدہ یہ ہے کہ جب ہم سورۂ فاتحہ پڑھتے ہیں تو غور کرتے ہیں کہ اس میں سارے قرآن کریم کا مضمون کس طرح آگیا ہے یا جب ہم سورۂ بقرہ پڑھتے ہیں یا آلِ عمران پڑھتے ہیں یا نِسَآء پڑھتے ہیں یا مائدہ پڑھتے ہیں یا انعام پڑھتے ہیں تو ہم غور کرتے ہیں کہ اس میں سورۂ فاتحہ کے مضامین کس طرح بیان ہوئے ہیں مگر یہاں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہی نہیں کہ کون سا نصف ہے جس کے برابر سورۂ زلزال ہے یا کون سا ثلث ہے جس کے قائم مقام سورۂ اخلاص ہے یا کون سا ربع ہے جس کی قائم مقام سورۂ کافرون اور سورۂ اِذَاجَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ ہے پس ان سورتوں پر غور کر کے ہم کس دوسرے نصف یا ثلث یا ربع کے مضمون پر غور کر کے ہم یہ سمجھیں کہ ان میں ان سورتوں کا مضمون زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔پس محض یہ کہہ دینا کہ فلاں سورۃ نصف قرآن کے برابر ہے اور فلاں ثلث قرآن یا ربع قرآن کے برابر فائدہ کے لحاظ سے بالکل بے کار ہے۔نہ ہمیں یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ ان سورتوں میں کسی نصف یا کسی ثلث یا کسی ربع کا مضمون خلاصۃً بیان ہوا ہے نہ یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کس نصف یا ثلث یا ربع میں ان سورتوں کے مضامین کو زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ قرآن کریم کا وہ نصف یا ثلث یا ربع معین کیا جاتا جس کے مضامین کو ان سورتوں میں بیان کیا گیا تھا تا کہ مومن اس نصف یا ثلث یا ربع کے مضامین کا ان سے مقابلہ کر کے اپنا ایمان تازہ کرتے جیسے سورۂ فاتحہ پر غور کر کے ہم سارے قرآن کریم کے مضامین کو اخذ کرسکتے ہیں اور سارے قرآن کریم میں زیادہ تفصیل کے ساتھ وہی مضمون پاتے ہیں جو سورۂ فاتحہ میں بیان ہوا ہے مگر آپ نے اس نصف یا ثلث یا ربع کا کوئی ذکر نہیں کیا جس کے یہ برابر ہیں۔پس صاف ظاہر ہے کہ اس جگہ